بے مثال تحریریوں کے خالق ممتاز مفتی کو بچھڑے16برس بیت گئے

اسٹاف رپورٹ
کراچی : گورداس پور میں گیارہ ستمبر انیس سو پانچ کو پیدا ہونے والے ممتاز حسین نے ادب کی دنیا میں ممتاز مفتی  کے نام سے شہرت پائی۔ ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔

ممتاز مفتی نے کچھ وقت فلم نگری میں گزارا اور پھر مختلف سرکاری اداروں میں ملازمت کی۔۔ انیس سو چھتیس میں ادبی دنیا لاہور میں ان کا پہلا افسانہ ''جھکی جھکی آنکھیں'' شائع ہوا جسے بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔

ممتاز مفتی کے افسانوی مجموعوں میں ان کہی ، گہماگہمی، چپ  اور ناولوں میں علی پور کا ایلی ، الکھ نگری اور سفر ناموں میں لبیک اور ہند یاترا شامل ہیں۔ فنی خدمات پر انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

مفتی ستائیس اکتوبر انیس سو پچانوے کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے لیکن اپنی بے مثال تحریروں کے سبب وہ آج بھی زندہ ہیں۔ سماء

کے

کو

گئے

Narendra Modi

motion

Tabool ads will show in this div