پانی کے مسئلے پر سياست ہورہی ہے، خواجہ اظہارالحسن

اربوں روپے کي تعميرات ميں پاني موجود ہے مگر ايک سو بيس گز کا بھي گھربنے تو پاني خريدنا پڑتا ہے، کے فور منصوبہ تو دو ہزار اٹھائيس تک نہيں بن سکے گا، ايم کيوايم کے خواجہ اظہارالحسن نے سندھ اسمبلي ميں کئي سوالات اٹھاديے ۔

خواجہ اظہارالحسن نے سندھ اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ 2009ميں شہرميں پاني کامسئلہ نہيں تھا، اربوں کي تعميرات ہورہي ہيں ليکن پاني کاٹينکرنہيں ملتا، پاني کے لئے سب سے پہلے لياري ميں احتجاج ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ 120 گز کا بھي گھر بنے توپاني خريدنا پڑتا ہے، پاني کے مسئلے پر سياست ہورہي ہے، کھيتوں اوربھينسوں کيليے پاني ہے،کراچي کيليے نہيں، سندھ حکومت پاني کا مسئلہ حل نہيں کرسکتي۔

انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے مافيا پاني چوري کررہے ہيں، 2028 ء تک کے فورمنصوبہ مکمل نہيں ہوگا، پاني نہ ملنے پر اپنے علاقوں ميں احتجاج کريں، 6 سال سے حکومت کو پاني کي اسکيميں دے رہا ہوں۔

water issue

KHAWAJA IZHAR UL HASSAN

Tabool ads will show in this div