کالمز / بلاگ

پردیسی درخت دیس کو بنائیں بنجر

پاکستان تیزی سے بنجر ہورہا ہے، زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے، لاہور کے پانی میں آرسینک کی مقدار بڑھ رہی ہے، اب ڈیم نہ بنائے تو ملک میں پانی ختم ہوجائے گا۔ آج کل یہ جملے سوشل میڈیا مفکرین کے تجزیوں، سیاست دانوں کی تقریروں، عوام کے نعروں، پھپھو کے طعنوں، بہنا کے بہانوں اور ہر محفل کا موضوع گفتگو بنے ہوئے ہیں، میں بھی اسی معاشرے سے ہوں، شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مسائل سے میرا بھی دل دکھتا ہے، میری آنکھوں میں بھی اپنے دیس کے درد کے اشک بہتے ہیں، خیر قصہ مختصر وزیر اعظم کے ہرے بھرے پاکستان کی خوب دھوم مچی ہوئی ہے، ہر جگہ نعرے بازی، ہر کھڑکی پر عشق پیچاں کی بیل لٹک رہی ہے، ہر رنگ میں ہرے رنگ کی دھوم ہے، اسکولوں کے بچوں سے لے کر کالج اور یونیورسٹی کے کاؤ بوائز، ہر ایک کی زبان پر درخت لگاؤ بخت جگاؤ، کے نعرے ہیں۔

سب سے آگے بڑھنے کی دھوم میں قوم کا ہر فرد آنکھیں موندے چلے جا رہا ہے، کراچی سے خیبر، خیبر سے مکران، کوئٹہ سے ناران جگہ جگہ بغیر منصوبہ بندی کے درخت لگائے جارہے ہیں۔ میں درخت لگانے کی مخالفت نہیں کررہا بلکہ لاشعوری طور پر پریشانی اور تذبذب کا شکار ہوں، غیر ملکی درختوں کو جابجا لگایا جارہا ہے، قدرت کا ایک نظام ہوتا ہے، اس نے ہر علاقے اور ماحول کی مناسبت سے نباتات کی تخلیق کی ہے، حشرات الارض کی بھی کچھ مخصوص علاقوں میں پرورش ہوتی ہے لیکن انسان نے جب جب قدرت کی مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کی، اس کے سنگین نتائج انسانیت کو بھگتنا پڑے ہیں، اوزون کی تہہ سے لے کر گلوبل وارمنگ کے اثرات تک، انسان نے اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے ماحول کو تباہ کیا ہے، اپنے مسکن کو نیست و نابود کرنے میں بھی انسان کسی سے پیچھے نہیں رہا۔

بات ہورہی تھی ماحول کے مخالف درختوں کی، خیبر پختونخوا میں حکومت بلین ٹری سونامی لے کر آئی، اس سونامی کے دوران حکومت کے مطابق اس نے کروڑوں پودے لگائے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں بلین ٹری سونامی کے دوران 2 کروڑ سے زیادہ سفیدے کے درخت لگائے گئے، بات آگے بڑھانے سے قبل یہ بات بتاتا چلوں کہ سفیدہ یا یوکلیپٹس آسٹریلوی درخت ہے، یہ درخت پاکستان کے ماحول میں پروان چڑھنے کے قابل نہیں، نہ ہی اس کے موافق ہے۔ ماہرین کے مطابق سفیدے کا پودا 24 گھنٹے کے دوران 8 سے 10 لیٹر پانی پی جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا ضلع راولاکوٹ سفیدے کے حوالے سے جانا جاتا تھا، پورے ضلع میں سفیدے کی کاشت کی گئی تھی، لیکن چند سالوں کے بعد ضلع بھر سے پانی خشک ہونا شروع ہوگیا، جس کے بعد مقامی اور قومی سطح پر تحقیقات کی گئیں۔ ماہرین نے ضلعی انتظامیہ کو سفیدہ کاٹنے کا حکم دیا، اب ضلع میں پانی کی سطح بہتر ہورہی ہے۔

چشموں، ندی نالوں، جھرنوں اور آبشاروں سے بھرپور صوبہ خیبر پختونخوا میں جان بوجھ کر کروڑوں کی تعداد میں پانی کے دشمن پردیسی درخت لگا دئیے گئے لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہ دی۔ ماہرین کے مطابق یہ درخت سیم اور تھور والے مقامات اور کٹاؤ والی زمین پر لگایا جاتا ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ چند سال قبل کراچی میں بھی شجر کاری مہم کے ذریعے پردیسی پودے اگائے گئے جن سے ناصرف فضا پرندوں کے نغموں سے محروم ہوگئی بلکہ کراچی کے شہری بھی سانس کے امراض میں مبتلا ہونے لگے، ایک جانب قوم کو پانی کی کمی کا احساس دلانے کیلئے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جارہی ہے لیکن دوسری جانب نااہل اور ناسمجھ پالیسی سازوں کی وجہ سے سرکار خود ہی اس ملک کو بے آب و گیا نخلستان میں تبدیل کررہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی اس مہم کے دوران پنجاب کے علاقوں میں بیری کے درخت اگائے جائیں جو ناصرف ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں بلکہ بیری کا شہد حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بنیں گے، اسی طرح پہاڑی علاقوں میں چیڑھ، دیوار، شاہ بلوط اور دیگر علاقائی درخت اگائے جائیں، جو ماحول میں بہتری کا سامان مہیا کریں گے، اسی طرح کراچی اور اندرون سندھ کے علاقوں میں پردیسی درختوں سے ماحول کی بربادی کرنے کی بجائے دیسی درخت اگانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

tree plantation

#KaptaanChangedPakistan

Tabool ads will show in this div