جون ایلیا کا عالمِ بالا سے انور مقصود کے نام خط

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس میں معروف شاعر جون ایلیا سے منسوب سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں انور مقصود نے عالم بالا سے جون ایلیا کے خطوط سنائے تو حاضرین قہقہے لگاتے رہے۔

معروف مزح نگار انور مقصود نے اپنی گفتگو میں معروف شاعر جون ایلیا کا بھی تذکرہ کیا اور ازراہِ تفنن بتایا کہ جون ایلیا کو میں بھائی جون کہا کرتا تھا تو وہ مجھ سے کہتے کہ تم مجھے بھائی جون مت کہا کرو صرف جون کہا کرو، میں نے کہا ٹھیک ہے آپ بھی مجھے انور مقصود صاحب کہا کریں، ایک نظر انہوں نے مجھے دیکھا اور کہنے لگے کہ میں تمہارے گھر بیٹھا ہوں اگر اپنے گھر میں ہوتا تو رکشے میں چلا جاتا۔ میرے گھر جب وہ آئے تو اپنی جیب سے دو ہلکے ہلکے گلاس نکالے اور کہنے لگے تمہارے گھر کے گلاس بہت بھاری ہیں لڑکیوں کی طرح ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔

انور مقصود نے جون ایلیا کا حلیہ بتاتے ہوئے کہاکہ ان کے بال وبال، سرآشفتہ، آنکھیں منتظر، دماغ شہرِ جمال، صحت خواب و خیال، قدآور، ہاتھ قلم، غصہ لبریز ، دل پیمانہ، دور سے دیکھو تو مسئلہ، مردوں کی محفل میں پرسکون اور عورتوں کی محفل میں پھدکتا افلاطون لگتے تھے۔

اس موقع پر انور مقصود نے ازارہِ تفنن تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری آج بھی ماضی کے شاعروں سے خط و کتابت جاری رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جون ایلیا کا مرنے کے بعد انہیں خط موصول ہوا ہے جس میں وہ مجھے لکھتے ہیں کہ

جانی ۔۔۔

یہاں سب بری شاعری کرتے ہیں اور مجھے بری شاعری سننا پسند نہیں ، جہاں اب میں ہوں وہاں بجلی نہیں ہے صرف ایمان کی روشنی ہے، یہاں کئی شاعر اور کئی ادیب موجود ہیں ہم اکثر یہاں مشاعرے کی محفل بھی سجاتے ہیں ایک بار جب مشاعرے کی محفل سجائی گئی جس میں مرزا نے شعر پڑھا

انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا

اٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی

تو غالب کی شاعری پر میر نے واہ کہا تو میں نے میر سے کہا کہ آپ نے غالب کی شاعری پر واہ کہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ میری کمر میں درد ہے میں آہ کہنا چاہ رہا تھا مگر منہ سے واہ نکل گیا۔

وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے

تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے

میر کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن چپ ہوگئے میں نے پوچھا کیا اب بھی درد ہورہا ہے ؟ ۔

کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!

مری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی

میر نے اپنی پیشانی پر تین چار مرتبہ ہاتھ مارا کہا جانی ! یہ بھی تعریف کا ایک طریقہ ہے

ہمارے پاس مشتاق احمد یوسفی بھی آچکے ہیں یوسفی صاحب کو دیکھ کر حوریں بھی مسکرا رہی ہیں یوسفی صاحب اپنے گوشے میں رہنے کے بجائے کسی شاعرہ کے گھر مقیم ہیں، ایک دن جب مشاعرہ منعقد کیاگیا تو ہوا بھی بہت تیز چل رہی تھی میں نے میر کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تو غالب نے کہاکہ میر کو پکڑ کر رکھو ہوا تیز چل رہی ہے، مشاعرے میں میر اور غالب کے پڑھنے کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ تم بھی اپنے اشعار سناﺅ تو میں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ غالب اور میر کے بعد میں کچھ سناﺅں تو وہ کہنے لگے کہ تم پیدا بھی تو ہمارے بعد ہوئے تھے‘۔    

پھر میں نے بتایا کہ امروہے سے ہوں وہی کرتا تھا جو غالب کرتے تھے میرا نام جون ایلیا ہے ادب گھر سے ملا اور بے ادبی زمانے سے 1935 میں زمین پر آیا اور 2002 میں آسمان پر ولادت امروہا یوپی وفات کراچی بہت پی تنہا بہت زندگی گزاری ، ملی اور قوم پرستانہ شاعری کبھی نہیں کی ، فارسی اور عربی میری بغل میں اور اردو میری جیب میں تھی ۔ کاش میرے چاہنے والے میری شاعری کے بجائے میری نثر پر دیہان دیتے شاعری تو ہر کوئی سمجھ لیتا ہے لیکن نثر سمجھنے کیلئے پڑھا لکھا ہونے ضروری ہے، جو ملک میں چھوڑ کر آیا ہوں وہاں بہادر بہت ہیں مگر بہادروں کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے، میں نے مرزا کی فرمائش پر اپنے چند اشعار سنائے۔

ہم کو مٹا نہ دیں یہ زمانے کی مشکلیں

لیکن یہ مشکلیں تو ہزاروں کے ساتھ ہیں

 

مرا اِک مشورہ ہے اِلتجا نئیں​

تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں​

بچھڑ کر جان تیرے آستاں سے

لگایا جی بہت پر جی لگا نئیں

محبت کچھ نہ تھی جُز بدحواسی​

کہ وہ بندِ قبا، ہم سے کُھلا نئیں​

جون ایلیا نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ میری ملاقات یہاں فیض احمد فیض سے بھی ہوئی، فیض مجھ سے کہنے لگے کہ پاکستان میں تبدیلی آگئی ہے، میں نے کہا ہاں پہلے لاہور میں جشن بہاراں ہوتا تھا اب فیض میلہ ہورہا ہے، انہوں نے کہاکہ میں سیاسی تبدیلی کی بات کررہا ہوں ، نیا پاکستان صرف اسی طرح بن سکتا ہے کہ تم اپنے وزیراعظم عمران خان کو کہو کہ پرانے پاکستان کو ملک ریاض کو بیچ دے اور نئے ناظم آباد کے پیچے نئے پاکستان کی بنیاد رکھے ، نئے پاکستان کو کراچی سے شروع ہونا چاہئے کیونکہ پرانا پاکستان بھی کراچی سے شروع ہوا تھا ۔

جون ایلیا نے خط میں مزید لکھا ہے کہ ہر بڑے سیاستدان کے لئے اچھا بے ایمان ہونا ضروری ہے مگر عمران چونکہ ایماندار ہے اسی لئے مشکل میں ہے ۔

تمھارا بھائی جون ایلیا

 

ANWAR MAQSOOD

11 almi Urdu conference

JAUN ELIA

kyun nikala

poet jaun elia

Tabool ads will show in this div