مرد مجاد جیسے ہم بابائے اردو کے نام سے جانتے ہیں

اسپیشل رپورٹ

کراچی: بابائے اردو مولوی عبدالحق کا آج یوم وفات منایا جا رہا ہے۔ مولوی عبدالحق  1870ء میں ہاپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ 1894ء میں علی گڑھ سے بی۔ اے کیا۔ علی گڑھ میں سرسید کی صحبت میسر رہی۔ ان کی آزاد خیالی اور روشن دماغی کا مولانا کے مزاج پر گہرا اثر پڑا۔

1895ء میں حیدرآباد میں ایک اسکول میں ملازمت کی۔ اس کے بعد صدر مہتمم تعلیمات ہوکر اورنگ آباد منتقل ہوگئے۔ ملازمت ترک کرکے اورنگ آباد کالج کے پرنسپل ہوگئے اور اسی عہدہ پر آخر تک فائز رہے یہاں تک کہ پنشن لی۔


عبدالحق نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بڑا کام کیا جس میں ایک جامعہ عثمانیہ کا قیام بھی ہے۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی منتقل کراکے مولوی صاحب خود بھی دہلی آگئے مگر کچھ عرصے بعد کراچی آگئے اور یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کاکام شروع کر دیا۔ اور کالج کی بنیاد رکھی۔ عبدالحق نے اردو کی خدمت کے لیے تمام زندگی وقف کر دی تھی۔ 16اگست 1961ءکوکراچی میں وفات پائی۔

مولوی عبدالحق نے جنھیں انجمن کے حوالے اور اردو کی خدمات کے اعتراف میں بابائے اردو کا خطاب دیا گیا انجمن کو غیرمعمولی ترقّی دی۔ اس کی خدمات کا دائرہ وسیع کیا۔

وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق اردو کیلئے علمی اور ادبی منصوبے مرتب کیے اور ان پر بڑی دل جمعی سے کام کیا انجمن کے کاموں کی ایسی شہرت ہوئی کہ نظام دکن میر عثمان علی خاں نے ایک ذاتی فرمان کے ذریعے سے اس کی سرپرستی منظور کی اور اس کے لیے مستقل امداد جاری کردی۔ مولوی عبدالحق 16اگست 1961 میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ بے شمار کتابوں کی تدوین کرنے والے بابائے اردو کی آخری آرام گاہ موجودہ اردو یونی ورسٹی و کالج ہے۔ سماء

کے

سے

ہم

czech

نام

personal

rahat fateh ali khan

Tabool ads will show in this div