دہشتگردی کو شکست دینے والا لکی مروت کا زخمی ہیرو

جنوبی خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی زمین کاشتکاردوست نہیں۔ بیج بونا ہی بہت مشکل ہے اوراگر ایسا کر بھی لیا تو پھرآسمان اس بات کا ضامن نہیں کہ وہ کھل کرنہیں برسے گا۔ اسی لیے یہاں کے باسی جانوروں کو عزیزتررکھتے ہیں۔ یہ ان کیلئے بہت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ تاجر اپنےبچھڑوں کو روزمرہ کے بازاروں یا ضلع بھرمیں لگنے والے میلوں میں 15 ہزار روپے تک میں فروخت کرسکتے ہیں۔ڈیری فارمنگ سے بھی یہاں کے باسیوں کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ دیسی گھی اور مکھن کو 1800 روپے فی کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔

چھ ستمبر2010 کو ہولناک دھماکہ ہوا اور پل بھرمیں گہرے سیاہ بادل چھا گئے، علاقے میں ہرکوئی اپنی جان بچانے کیلئے اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا ، ایسے میں ایک نئے تعینات ہونے والے جانوروں کے ڈاکٹرمبارک خان نے کمال کر دکھایا۔

صرف 4 روزقبل ہی نوشہرہ سے یہاں تعینات ہونے والے ڈاکٹرمبارک خان نے اس روز سول ویٹرنری اسپتال کے گارڈ کو اپنے بچوں کیلئے مارکیٹ سے ناشتہ لانے بھیجا اورخود اسپتال میں انتظارکرنے لگے ، 5 منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ زوردار دھماکا ہوا، دھواں پھیلتا گیا اور ساتھ ہی فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔

ڈاکٹر مبارک خان نے بتایا کہ ’’حواس بحال ہوئے تو دیکھا میرے سارے کپڑے پھٹ چکے تھے اوردائیں کندھے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ اسپتال کی پرانی عمارت اورڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر گل رحمان کا دفترزمین بوس ہوچکا تھا۔ گھرکی دیواریں گرچکی تھیں، میری نئی کار کے علاوہ 125 سی سی موٹرسائیکل بھی تباہ ہو گئےتھے‘‘۔ زخمی ڈاکٹرمبارک کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ایکسرے کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹراسپتال بنوں منتقل کردیا گیا۔

بم دھماکے میں عمارت تباہ ہونے کے باجود اگلے ہی روزسول ویٹرنری اسپتال کوکھول دیا گیا۔ زخمی ڈاکٹراسپتال سے وہاں پہنچے اور ٹینٹ لگا لیا۔ ڈاکٹرمبارک کا کہنا تھا ’’ میں نےفیصلہ کیاکہ ایک طرف دھماکے سے تباہی پھیلی، دوسری جانب ہم اسپتال بند کردیں توعوام پریہ دوسراحملہ ہوگا، کیونکہ لکی مروت جیسےغریب علاقے میں لوگوں کا بڑا انحصار مویشیوں پر ہے‘‘۔

[iframe width="640" height="360" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0" marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/y2ZTr7tNeXQ"]

محکمہ لائیواسٹاک کے ڈاکٹرزاورعملے پرمشتمل کل چھ افراد کی ٹیم نے اپنی مدد آپ کے تحت کام جاری رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دہشت گردوں کامقصد ہی یہی ہے کہ سرکاری عمارتوں اوراداروں کو تباہ کریں اس لیے انہیں جیتنے نہیں دینا۔ ٹیم میں شامل ویٹرنری سپروائزر حاجی حکیم خان کا کہنا ہے کہ ’’جب ہم پہنچے تو ہمارے ڈاکٹرزخمی تھے، ہرطرف افراتفری کاعالم تھا۔ دفترکی اسٹیشنری اورفرنیچرتک تباہ ہوچکے تھے۔ ڈاکٹرزشدید نفسیاتی دباؤ میں تھے۔ ایسے میں ڈاکٹر مبارک زخمی ہونے کے باوجود وہاں پہنچے اورزمین پر لیٹ کر ہمیں خدمات جاری رکھنے کے لیے ہدایات دیتے رہے۔

نقصانات کےازالے میں وقت لگتا اسی لیے انتظار کیے بغیرڈاکٹرمبارک اور ان کی ٹیم ٹینٹ لگا کر 4 ماہ تک خدمات سرانجام دیتی رہی جس کے لیے لکی مروت کے لوگ ان کے انتہائی شکرگزارہیں۔ گاؤں وانڈہ جنڈر سے تعلق رکھنے والے مشکواۃ اللہ نے بتایا کہ ’’ہم دیہاتی لوگ مویشیوں کے بغیرگزارہ نہیں کرسکتے۔ دھماکے کے بعد مجھے خدشہ تھاکہ ڈاکٹرزنہیں ہوں گے لیکن جب اسپتال پہنچا تودیکھا کہ ٹینٹ لگا کر خدمات مہیا کی جا رہی تھیں، مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اب بھی ہمارے مویشیوں کاعلاج ہوگا‘‘۔

ڈاکٹرمبارک کے مطابق ایسے حالات میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنرایازخان مندوخیل نے بھی بھرپورتعاون کیا، انہوں نے ڈاکٹرز کی رہائشگاہوں کی مرمت اورپانی کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پانچ لاکھ روپے کی گرانٹ دی۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرلائیوسٹاک ڈاکٹرگل رحمٰن مروت اورڈائریکٹرجنرل لائیوسٹاک ڈاکٹرشیرمحمد نے بھی کافی حوصلہ افزائی کی۔

باہمت ڈاکٹرمبارک اورٹیم نے نامساعد حالات میں بھی کام جاری رکھا، کہتے ہیں ’’ہم نے بندوق اٹھاکردہشت گردوں کامقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اسپتال کی عمارت نہ ہونے کے باوجود سات سال تک وہاں کے باسیوں کوحوصلہ دیتے ہوئے ان کے جانوروں کوعلاج معالجے کی سہولیات بلاتعطل فراہم کیں‘‘۔

 

Lakki Marwat’s

Civil Veterinary Hospital

Tabool ads will show in this div