ٹرمپ نے جمال خاشقجی کے قتل کی آڈیوٹیپ سننے سے انکارکردیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ سننے سے انکارکردیا۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدرٹرمپ نے کہا کہ جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق آڈیو ٹیپ موجود ہے لیکن میں اسے نہیں سنا چاہتا۔

آڈیو ٹیپ نہ سننے کی وجہ بتاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ تکلیف دہ اور خوفناک ہے، مجھے اس معاملے پر مکمل بریفنگ دی جا چکی ہے اس لیے یہ ٹیپ سننے کی کوئی وجہ نہیں بچتی۔

سعودی عرب کو جمال خاشقجی کے قاتل سامنے لانے  کے لیے 2 دن کی مہلت

ٹرمپ نے سی آئی اے کی اُن رپورٹس کو بھی قبل ازوقت یا نامکمل قرار دیا جس میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ خاشقجی کا قاتل کون ہے اور جو بھی ہو ، امريکا ان مشتبہ افراد پر پابندیاں چاہتا ہے ۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امید ہے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داروں کے بارے میں رپورٹ منگل تک مکمل ہوجائے گی۔

جمال خاشقجی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا

اس سے قبل امریکا کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) دعویٰ کر چکی ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا اور قتل سے قبل امریکا میں سفیر تعینات خالد بن سلمان نے مقتول صحافی کو فون کرکے استنبول قونصلیٹ جانے پر آمادہ کیا۔

واضح رہے کہ سعودی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا تھا۔

jamal khashoggi murder

Tabool ads will show in this div