محبت کی خوشبو بکھیرنے والی پروین شاکر کو بچھڑے16 برس بیت گئے

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی : ہم خود بھی جدایی کا سبب تھے۔ اسکا ہی قصور سارا کب تھا محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمونے والی شاعرہ پروین شاکر کو ہم سے جدا ہوئے سولہ برس بیت گئے لیکن اردو ادب کی سرزمین میں جو پھول پروین نے کھلائے تھے ان کی خوشبو سے فضا ہمیشہ معطر رہے گی۔

26دسمبر 1994 وہ دن تھا جس دن پروین شاکر نے رضائے الہی کی تکمیل کی اور اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔


پروین شاکر کی شاعری کا بنیادی وصف جراتِ اظہار تھا وہ منظر نامے پر ماہِ تمام کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔

پروین سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔


پروین نے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا،خواہش اور انکار کو شعر کا روپ دیا۔

ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے۔ پروین کی شاعری کلیوں کی مسکراہٹ، چڑیوں کی چہکار، بارش کی کن من، ہجر و فراق کے گیتوں اور بہار کی سرگرشیوں سے عبارت ہے۔


انہوں نے اپنی شاعری میں صنف نازک کے جذبات کی تصویریں بنائیں اور اس کے دکھوں اور کرب کو نظموں میں ڈھالا۔

پروین شاکر جہاں زندگی،رنگ اور خوشبو سے اپنی تمام تر سچائیوں کے ساتھ محبت کرتی رہیں  پرائڈ آف پرفارمنس پروین شاکر چھبیس دسمبر انیس سو چورانوے  کو خاک میں پہناں ہوگئیں مگر ان کی شاعری خوشبو کی طرح کو بہ کو پھیل چکی ہے۔ سماء

کی

کو

گئے

trott

ccp

Tabool ads will show in this div