کوکوکورینا: گوٹھ اسٹوڈیو نے کوک اسٹوڈیو کی کلاس لےلی

کوک اسٹوڈیو کے سیزن 11 میں ’’کوکوکورینا‘‘ کے نئے ورژن پرتنقید کا سلسلہ تاحال نہیں تھما۔ سیاستدانوں سے لیکر عام آدمی تک نے احدرضامیر اور مومنہ مستحسن کے گائے ہوئے گانے کو ناپسند کرتے ہوئے بےلاگ تبصرے کیے لیکن اب سندھی زبان میں گانے والے جگرجلال کچھ نیا ہی لے کرآئے ہیں۔

[iframe width="640" height="360" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0" marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/c72a19J3f-I"]

پاکستان فلم انڈسٹری کا پہلا پاپ سونگ کہلانے والے اس گانے کو سنہری آواز کے مالک احمد رشدی نے فلم ’’ارمان‘‘ کیلئے ایسا گایا کہ سال 1960 سے آج تک اس کی چمک دمک ماند نہ پڑی۔ سدا بہار گانوں کو نئے انداز میں پیش کرنے والے پروگرام کوک اسٹوڈیو کے نئے سیزن میں جب اداکاراحدرضا میرنے ڈیبیو کرتے ہوئےمومنہ مستحسن کے ساتھ یہ گیت گایا تو شائقین کو بیحد مایوسی ہوئی۔

مزید پڑھیے: کوک اسٹوڈیو میں کوکورینا کا حشرنشر

احد اورمومنہ کے علاوہ پروگرام کے پروڈیوسرزکو بھی سوشل میڈیا پرکڑی تنقید کا سامنا رہا حتیٰ کہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری تک نے اسے ہولناک قرار دیتے ہوئے اصل گانے کا قتل عام کہہ ڈالا۔ اور تو اور اداکاروحید مراد جن پر یہ گانا فلمایا گیا تھا، کے صاحبزادے عادل مراد نے بھی اسے دوبارہ گانے کی اجازت دینے پر مداحوں سے معافی مانگی۔

شیریں مزاری بھی ’’کوکوکورینا‘‘ متاثرین میں شامل

یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن ان سب پر بھاری رہے سندھی گائیک جگرجلال جنہوں نے کوک اسٹوڈیو کی ٹکر میں ’’گوٹھ اسٹوڈیو‘‘ کے بینرتلے ’’کوکوکورینا‘‘ گایا اور کیا خوب گایا۔

عادل مراد نے مداحوں سے معافی مانگ لی

لاڑکانہ سے تعلق رکھنےوالے جگر جلال کی حس مزاح کو داد دینی پڑے گی۔ گانے کے آغازمیں ان کا کہنا ہے کہ اگراحد اور مومنہ کوکوکورینا گا سکتے ہیں تو جگر جلال کیوں نہیں؟۔ روایتی سندھی ٹوپی اور کالے چشموں کے ساتھ اکتارہ بجاتے جگرجلال کی گائیکی سماعتوں پر گراں نہیں گزرتی بلکہ سوشل میڈیا صارفین تو انہیں احد اور مومنہ سے زیادہ نمبر ہی دے رہے ہیں۔

 

Coke Studio

MOMINA MUSTEHSAN

Ahad Raza Mir

New version of Ko Ko Korina

Jigar Jalal

Tabool ads will show in this div