شہنشاہ غزل مہدی حسن پھر علیل، اسپتال منتقل

اسٹاف رپورٹ
کراچی : شہنشاہ غزل مہدی حسن کی علالت کو بارہ سال ہوگیے۔ وہ شہر کے مختلف اسپتالوں میں دو سو سے زاہد مرتبہ زیر علاج رہنے کے باوجود آج تک بستر سے نہ اٹھ سکے۔

غزل گائیکی میں پاکستان کا دنیا بھرمیں نام روشن کرنے والے شہنشاہ غزل مہدی حسن کو سال دوہزارمیں فالج کا اٹیک ہوا ۔


جس کے بعد سے لیکر آج تک وہ صحت یاب نہ ہوسکے۔ ملک کا یہ عظیم گائیک مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج رہا۔ پاکستان ہو یا بھارت پرستارآج بھی شہنشاغزل کی صحت کیلئے دعاگو ہیں۔

گزشتہ روزانہیں ایک دفعہ پھرکراچی کے مقامی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا جہاں ایک دفعہ پھر حکومتی اورسیاسی شخصیات نے ان کی عیادت کی۔


اٹھائیس جون سن انیس سوتینتیس کوپیدا ہونے والے مہدی حسن نے  فلم شکارسے اپنے گائیکی کا آغاز کیا۔

اپنی کمپوز کی ہوئی فیص احمد فیص کی مشہورغزل،گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہارچلے نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا ۔


ان کی وہ غزلیں جن کو بام عروج حاصل ہے ۔ ان میں رنجشن ہی سہی ، یوں زندگی کی راہ میں، زندگی میں توسب ہی پیارکیا کرتے ہیں۔


مجھے تم نظرسے ، اب کے ہم بچھڑے تو شاید خوابوں میں ملے جیسی غزلیں آج بھی کانوں میں رس گھولتیں ہیں۔


ان کے بیٹے عارف مہدی کا کہنا ہے کہ اب تک بے شمار شخصیات مہدی حسن کو دیکھنے آچکے ہیں مگران کے علاج پرکسی نے توجہ نہیں دی۔


انہیں امید ہے کہ صدرزرداری کی ذاتی دلچپسی سے ان کے والد کا علاج بہتر انداز میں ممکن ہوسکے گا۔ سماء

منتقل

Sindh Government

sister

granted

Tabool ads will show in this div