شہید طاہر خان داوڑ خوف اور ڈر سے ناواقف تھے

پشاور پولیس کے شہید ایس پی طاہر خان داوڑ نے اپنی پوری زندگی نا انصافی کے خلاف جنگ اور عوام کی حفاظت کے لیے وقف کردی تھی۔ ان کے دوست اور ساتھی پولیس افسران ان کو ایک فرض شناس اور بہادر پولیس افسر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

شہید طاہر خان داوڑ پشتو زبان کے شاعر بھی تھے اور اسی وجہ سے وہ پشاور کے ادبی حلقوں میں میں بھی واقفیت رکھتے تھے۔

ایس پی طاہر خان شہید نے پولیس میں 23 برس گزارے اور اپنی بہادری کے باعث محکمہ میں ایک نڈر پولیس افسر کے طور پر مشہور تھے۔

شہید طاہر خان داوڑ 4 دسمبر 1968 کو شمالی وزیرستان کے علاقہ خدی میں پیدا ہوئے اور 1986 میں بی اے کرنے کے بعد پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے خیبر پختونخوا پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتی ہوگئے۔

وزیرستان جیسے پسماندہ علاقے میں رہنے کے باوجود انہوں نے تعلیم پر توجہ دی اور 1982 میں میٹرک کیا اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 1986 میں بی اے جبکہ 1989 میں پشتو لٹریچر میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایس پی طاہرداوڑ کی میت افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردی

پشتو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے اگلے سال ان کو بنوں میں ایس ایچ او تعینات کیا گیا اور 2002 میں انہیں اسسٹنٹ سب انسکٹر سے ترقی دے کر سب انسپکٹر بنایا گیا۔

شہید طاہر خان داوڑ نے 2003 سے 2005 تک اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت مراکش اور سوڈان میں بھی خدمات سرانجام دیں۔ سال 2005 میں ہی دہشت گردوں کے ساتھ مقاملے کے دوران ان کو بازو اور ٹانگ میں گولیاں لگیں۔

سال 2007 میں انہیں سب انسپکٹر سے پروموشن دے کر انسپکٹر بنایا گیا اور دو سال بعد 2009 میں انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے 2012 تک کام کیا۔

طاہر خان داوڑ نے 2004 میں ڈٰی ایس پی کرائمز سرکل پشاور اور ڈی ایس پی فقیر آباد کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں اور اسی سال انہیں قائداعظم پولیس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اغوا سے 2 ماہ قبل طاہر خان داوڑ کو پشاور رورل پولیس سرکل کا سربراہ تعینات کیا گیا تھا۔

Tahir Khan Dawar

Tabool ads will show in this div