ایس پی طاہرداوڑ کی میت افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردی

  [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/Torkham-new.mp4"][/video] خیبر پختونخوا کے مغوی پولیس افسر  طاہر خان داوڑ کی لاش افغانستان میں ملنے کے بعد دو ممالک کے درمیان سفارتی بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جبکہ یہ سوال بدستور جواب طلب ہے کہ پولیس کا ایک گریڈ 18 کا افسر اسلام آباد سے اغوا ہوکر افغانستان کیسے پہنچا۔ افغان اور ریڈکراس حکام نے جمعرات 15 نومبر کو طاہر خان داوڑ کی لاش طورخم سرحد پر پاکستانی وفد کے حوالے کردی ہے جس میں وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی شامل تھے۔ طورخم بارڈر سے واپسی پر شہریار آفریدی نے کہا کہ ہمیں ڈھائی گھنٹے انتظار کروایا گیا اور اس سے قبل افغانستان میں حکام نے طاہر داوڑ کی لاش پاکستان ایمبیسی کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ یہ معاملہ سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغان حکومت کا احترام کرتے ہیں مگر ان کو اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔ ہم اپنے سپاہیوں کا تحفظ کرنا جانتے ہیں اور شہید طاہر داوڑ کے قتل کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچائیں گے مگر افغانستان یہ واضح کرے کہ ان کی لاش وہاں سے کیوں ملی۔ اس سے قبل سینیٹ میں خطاب کرتےہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، پاک افغان سرحدی علاقہ خطرناک ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستان بلکہ ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایس پی طاہر کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا۔ انھیں کس راستہ افغانستان لے جایا گیا،اس حوالے سے مکمل معلومات نہیں ہیں۔ یہاں سے انھیں پنجاب لے جایا گیا، جہاں انھیں ایک یا دو دن رکھا گیا، میاںوالی اور پھر بنوں لے جایا گیا۔ پاکستان میں جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خاموش بیٹھیں گے، ہم اس کا جواب ضرور دیں گے۔ ہم اس معاملے کو منطقی انجام تک لے کر جائیں گے۔ اس واقعے میں ملوث افراد، چاہے پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں، یہ وعدہ ہے کہ انھیں نشانِ عبرت بنادیں گے۔ منگل کو افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفارت خانے کو اطلاع دی کہ ننگرہار صوبے کے ضلع دور بابا سے ایک لاش ملی ہے۔ افغانستان کی جانب سے تصدیق بھی کی گئی کہ ایس پی طاہر کا سروس کارڈ بھی لاش کے ساتھ ملا ہے۔ ایس پی طاہر داوڑ کو 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا اور 13 نومبر کو خبریں گردش کرنے لگی کہ ان کو افغانستان میں قتل کردیا گیا ہے مگر حکومتی سطح پر ایک دبن بعد ان خبروں کی تصدیق کی گئی۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایس پی طاہرخان کے قتل پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کاحکم دے دیا ہے۔ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ  خیبر پختونخوا حکومت فوری طور پراسلام آباد پولیس سے مل کرقتل کی تحقیقات کرے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں وحشیانہ قتل افسوسناک ہے۔ ہم نے ایک دلیر افسر کھو دیا ہے۔ طاہر کا اغوا اور افغانستان میں ان کا قتل بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ آصف غفور نے کہا کہ ہمارے ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم اس دوران افغان سیکیورٹی فورسز پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے میں تعاون کریں کیونکہ باڑ مکمل ہونے سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جا سکے گا۔

— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 15, 2018

SP Tahir Dawar

Tabool ads will show in this div