سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا وزیرِاطلاعات کے بیان پراحتجاج،معافی کامطالبہ

Nov 16, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/Senate-Walk-Out-with-sherry-rehman-15-11.mp4"][/video] [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/MA-CHAIRMAN-SENTAE-ROLLING-PKG-15-11-ZAKI-2.mp4"][/video]

سینیٹ میں جمعرات کو اجلاس شروع ہوتے ہی گرما گرم صورتحال اختیار کرگیا۔ متحدہ اپوزیشن  نے وزیراطلاعات فواد چوہدری کے گذشتہ روز کے بیان پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اسپیکرنے فواد چوہدری کو ایوان سے معافی مانگنے کی رولنگ جاری کردی۔

سینیٹ میں اجلاس کے شروع میں ہی حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ وزیراطلاعات کے معافی مانگنےتک ایوان میں نہیں آئیں گے۔ راجہ ظفر الحق بولے کہ کل جو بدمزدگی ہوئی، اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ انھوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ آپکی کوئی بات سنتا ہے اورنہ ہی مائیک بند کرنے پربات ختم کرتے ہیں۔

شبلی فراز نے پیشکش کی کہ ہمارے وزیر اور مشاہد اللہ کی تقریر منگوائی جائے، بتایا جائے کہ کس نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے،آپ کمیٹی بنا دیں بطورپارلیمانی لیڈرمعافی مانگ سکتا ہوں۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہا کہ وزیر بغیرایجنڈے کے بولنا شروع کرتے ہیں اورایوان کا ماحول خراب کرتے ہیں،جس کا جو دل کرے وہ بات کرکے چلا جاتا ہے۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی وزیراطلاعات کی  معافی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایوان کو کیسے چلاتے ہیں، ہم نے ضیاء اور مشرف دور کو بھی دیکھا ہے،بات وزیرکرتے ہیں اورمعافی قائد ایوان کو مانگنی پڑتی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے شبلی فراز کو اپوزیشن منانے کی ہدایت کی۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے ساتھ  ہی سینیٹر میرکبیر نے کورم کی نشاندہی کی اور کورم پورا نہ ہونے پر5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ وزیر اطلاعات ایوان سے معافی مانگیں،اگر فوادچوہدری نے معافی نہ مانگی تو ایوان میں داخلے پر پابندی لگا دی جائیگی۔

معاشی دہشت گردی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے، فواد چوہدری

واضح رہے کہ گذشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں فواد چوہدری اور عثمان کاکڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ چیئرمین سینیٹ نے فواد چوہدری کو بیٹھنے کا کہا تھا اورپارلیمانی انداز میں بات کرنے کی تنبیہ کی تھی۔

وزیراطلاعات نے چیئرمین سینیٹ سے پانچ ہزار اکاؤنٹس ٹریس ہونے پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا تھا جس پر چیرمین سینیٹ نے جواباً کہا کہ معاملات سپریم کورٹ میں ہیں جو بھی بات کرنی ہے وہاں جا کر کریں ۔

چیئرمین سینیٹ نے فواد چوہدری کو کہا تھاکہ غیر پارلیمانی الفاظ پر لوگ آپ کو نہیں چھوڑیں گے۔  چیئرمین سینیٹ نے وزیر اطلاعات کو پہلے تنبیہ کی لیکن عدالتوں میں زیرسماعت کرپشن کیسز پر مسلسل گفتگو کرنے پر ان کا مائیک بند کروا دیا گیا تھا۔ مائیک کھلنے پر فواد چوہدری نے دوبارہ گرجنا برسنا شروع کیا تو اپوزیشن ایوان سے واک آوٹ کر گئی تھی۔

SENATE

opposition boycott

Tabool ads will show in this div