نوجوانوں کو متاثر کرنیوالے ذیابیطس ٹائپ 2 کی 4 اقسام

لوگوں کا خیال ہے کہ ذیابیطس کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں، ٹائپ 1 اور 2۔ لیکن سوئیڈن کے طبی محققین کا کہنا ہے ٹائپ 2 کی چار اقسام ہوتی ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ٹائپ 1 ذیابیطس اور مدافعتی نظام پر تاخیر سے حملہ آور ہونے والی ذیابیطس کو ایک ہی قسم سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ٹائپ 2 کی ذیابیطس کی چار اقسام ہوتی ہیں جن میں سے دو شدید ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے یہ معلومات مفید ثابت ہوں گی۔ اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے پروفیسر آف ڈائی بٹیس اینڈ اینڈو کرینالوجی لیف گروپ کہتے ہیں کہ مریض کو انفرادی توجہ دینے اور اسکا علاج کرنے کے لیے یہ معلومات مفید ثابت ہوں گی، اس معلومات سے مریض کی زندگی میں بہتری آئے گی۔

ٹیم نے اپنی تحقیق کو ایک لانسیٹ نامی جریدے میں شائع کیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے ٹیم نے سوئیڈن میں 8980 لوگوں سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرنے بعد ذیابیطس کی پانچ ذیلی اقسام دریافت کی ہیں۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کے ذیابیطس کے مرکز سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ایملی برنز کہتی ہیں کہ اس تحقیق نے ٹائپ 2 ذیابیطس کے حوالے سے مزید بحث کی ہے، ٹائپ 2 کی ذیلی اقسام کی دریافت سے مریضوں کا علاج کرنے میں مزید آسانی ہوگی، لیکن اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان ذیلی اقسام میں مبتلا مریضوں کے تسلی بخش علاج کے حوالے سے ہمیں ان اقسام کے حوالے سے مزید تفصیل کی ضرورت ہے۔

پاکستان نیشنل ڈائی بیٹیس سروے 2016-2017 کے سروے کے مطابق، ہر چار میں سے ایک شخص کے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور 3 کروڑ 53 لاکھ پاکستانی اس مرض کا شکار ہیں ۔

ٹائپ 1

ذیابیطس کی اس قسم کے شکار افراد کا مدافعتی نظام شکست و ریخت کا شکار ہوجاتا ہے۔ لبلبے انسولین کا ہارمون تیار کرتا ہے جو کہ جسم میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے اور اس میں باقاعدگی لاتا ہے۔ جب یہ مرض حملہ آور ہوتا ہے تو جسم کا دفاعی نظام لبلبے میں بیٹا آئیلیٹ خلیوں کو ہدف بنالیتا ہے۔

اس طرح جسم میں انسولین کی کمی ہوتی ہے ۔ انسولین کی پیداوار میں کمی سے گلوکوز خون سے نکل کر اعصاب، دل، دماغ اور گردوں تک نہیں پہنچ پاتا ، نتیجتاً ان اعضاء کو درکار توانائی  نہیں مل پاتی ہے۔

گلوکوز کے خون سے نہ نکل پانے کے سبب خون میں گلوکوز کا لیول بڑھ جاتا ہے، گلوکوز سارے جسم کا دورہ کرنے لگتی ہے۔ ایسا عموماً بچوں میں ہوتا ہے، لیکن اس بات کا بھی سائنسی ثبوت ہے کہ یہ مرض بالغ افراد میں بھی پایا جاتا ہے۔

ٹائپ 2

ذیابیطس کی یہ قسم 25 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس قسم میں لبلبہ انسولین پیدا تو کرتا ہے مگر وہ خلیوں میں صحیح طور پر جذب نہیں ہوپاتی۔ شروع میں خلیے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش میں انسولین کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں لیکن وقت گذرنے کے ساتھ جسم اس عمل کا ساتھ نہیں دے پاتا اور جسم میں انسولین کی مطلوبہ مقدار کی کمی ہوجاتی ہے۔

مریم حبیب جو انڈس ہیلتھ نیٹورک میں ڈائی بیٹیس پریونشن پروگرام کی سربراہ ہیں کہتی ہیں کہ اس صورتحال میں خطرناک عوامل کارفرما ہوجاتے ہیں۔

کچھ لوگوں جینیاتی طور پر ذیابیطس کے مرض میں فوری مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ وزنی ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی فربہی ان کے معدے کے اردگرد زیادہ ہوتی ہے۔

دوسرے خطرناک عوامل میں ایسا طرز زندگی اپنانا ہے جس میں مشقت یا ورزش کیے بغیر لمبے عرصے تک بیٹھا رہا جائے۔

مریم جنہوں نے تین سال سے ذیابیطس کا پروگرام چلا رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ذیابیطس سے متعلق آگاہی نہیں ہے، انہیں نہیں پتا کہ اس مرض کو کیسے قابو کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے پڑوسیوں اور دوستوں سے طبی مشورے مانگتے ہیں نہ کہ پیشہ ور ڈاکٹر سے۔

ڈائی بیٹیس پریونشن پروگرام نے اب تک 6000 ذیابیطس کے مریضوں کا معائنہ کر چکا ہے اور باقاعدگی سے ان کو مشورے دیتا ہے، لیکن صرف 3 فیصد لوگ ہی ان مشوروں پر عمل کرتے ہیں ۔ لوگوں کے اس رویے کی وجہ سے مریم کو سخت تکلیف ہے کیوں کہ لوگوں کو اس حوالے سے بار بار متحرک کرنا پڑتا ہے ۔

ذیابیطس اور ڈپریشن

ذیابیطس کے مریضوں میں ڈپریشن، افسردگی اور کھانے کی عادت میں بگاڑ پیدا ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب چیزیں عموماً نظرانداز کردی جاتی ہیں۔

جب آپ ٹینشن میں ہوتے ہیں آپ کا جسم کارٹی سول اور ایڈرینالین جیسے ہارمون پیدا کرتی ہے جن سے خون میں گلوکوز کی مقدار پر اثر پڑتا ہے۔ اس حوالے سے فوری مدد درکار ہوتی ہے۔ اس لیے ماہرین کہتے ہیں جن لوگوں میں ذیابیطس کا مرض تشخیص ہوجاتا ہے ان کو ڈپریشن کے حوالے سے باقاعدگی سے چیک اپ کرانا چاہیے۔

ذیابیطس کے بعد پیدا ہونے والے ڈپریشن کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں اگر اسکا بروقت علاج نہ کیا جائے ۔ ڈپریشن کا مریض خود کو علاج سے دور کرسکتا ہے، خود کی پرواہ میں کوتاہی کرسکتا ہے اور اس طرح خون میں پائی جانی والی گلوکوز کنڑول سے باہر جاسکتی ہے۔

ذیابیطس اور ڈپریشن کی وجہ سے دل کے مریضوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے زندگی گذارنے کے انداز میں بنیادی تبدیلی لانا بہت ضروری ہے ۔

اس مرض سے پیدا ہونے والے اثرات پر قابو پانے کے لیے تین عوامل درکار ہیں جن میں غذائی باقاعدگی، ورزش اور ڈاکٹری نسخے پر عمل پیرا ہونا۔

ڈائرکٹر ڈائی بیٹیس انسٹی ٹیوشن پاکستان ڈاکٹر امتیاز حسن کہتے ہیں اکثروبیشتر ڈاکٹر ادویات اور انسولین تجویز کردیتے ہیں جبکہ دوسرے عوامل مثلاً غذا، ورزش اور صحت کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنا نظر انداز ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر امتیاز کی تنظیم پورے پاکستان میں کام کررہی ہے اور تنظیم سے وابستہ اینڈوکرینولوجی اور نفسیات کے ماہرین مریضوں کو طبی سروس مہیا کرتے ہیں۔

یہاں کچھ بنیادی علامات ہیں جن سے خطرے کے عوامل کی موجودگی میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے مریض میں علامات نہ ہوں لیکن غیر ضروری طور پر وزن گرنا، تھکاوٹ، پیروں میں درد اور سن، بدن درد، بار بار پیشاب کا آنا اور پیاس کا لگنا جیسے الگ الگ واقعات ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر حسن نے زور دیا کہ حملے کے دوران خواتین کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس دوران انہیں ذیابیطس ہونا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور وہ مکمل طور پر اس سے لاعلم رہتی ہیں۔ اکثر اوقات ایک سے زیادہ اسقاط حمل جو دوسرے علاج سے تعلق رکھتے ہیں، مل کر ذیابیطس میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا کی آبادی کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ یہاں ایکسرسائز کا کچھ زیادہ تصور نہیں ہے، ہماری غذا میں فاسٹ فوڈ اور تلی ہوئی اشیاء کا استعمال بہت زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ ٹائپ 2 ذیابیطس نوجوان نسل میں پھیلتا جارہا ہے۔

HEALTH

Tabool ads will show in this div