چنیوٹ: جنازہ پڑھنے والوں کیلئے تجدید ایمان اور دوبارہ نکاح کا فتویٰ

[caption id="attachment_1336937" align="aligncenter" width="640"] File Photo/AFP[/caption]

پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں ایک مسجد کے مولوی نے دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والی خاتون کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر گاؤں کے تمام لوگوں کیلئے تجدید ایمان اور دوبارہ نکاح کا فتویٰ جاری کردیا ہے، کئی لوگوں نے دوبارہ نکاح پڑھوایا جبکہ دیگر عدت پوری ہونے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

چنیوٹ کے گاؤں چک نمبر 136 میں امام مسجد کے فتوے کے بعد گاؤں کے لوگ اپنے مسلمان ہونے اور نکاح کے بارے میں سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

گاؤں کے رہائشی قاسم علی کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے ان کی بھتیجی کا انتقال ہوگیا مگر مسجد کے امام میاں خالد بشیر نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مسلک الگ ہے۔

جس کے بعد چک نمبر 137 کے امام مسجد سید کاشف عمران شاہ کو بلایا گیا اور انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی مگر میاں خالد بشیر نے اعلان کیا کہ اس نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے اور ان کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔

ابتدائی طور پر گاؤں کے لوگوں نے مولوی خالد بشیر کی بات کو سنجیدہ نہیں لیا مگر بعد میں وہ ایک فتویٰ لے کر آئے جس کے بعد علاقے کے لوگوں نے ان کی بات مان لی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام میں تفرقہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں، امام کعبہ

جب گاؤں کے لوگوں نے مولوی میاں خالد بشیر سے پوچھا کہ اس نئے نکاح کی رجسٹریشن کیسے ہوگی، تو انہوں نے بتایا کہ نکاح کی رجسٹریشن پہلے ہو چکی ہے اور اب دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں مگر زبانی نکاح اور دولہا و دلہن کی جانب سے ایجاب و قبول دوبارہ ہوگا۔

گاؤں کے لوگ دوبارہ نکاح کیلئے مولوی خالد بشیر کے پاس گئے تو ان کا کہنا تھا کہ عدت پوری ہونے سے پہلے دوسرا نکاح مکروہ ہے، اس لئے عدت مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔

قاسم علی کی بھانجی کی نماز جنازہ پڑھانے والے چک نمبر 137 کے امام مسجد سید کاشف عمران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے یہ نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے جبکہ میاں خالد بشیر کا نکاح ٹوٹنے کا فتویٰ درست نہیں، نمازہ جنازہ پڑھنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد، ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا حکم

اس واقعہ کے بعد گاؤں کے بعض لوگوں نے ’فرقہ واریت‘ پھیلانے پر پولیس کو درخواست دی جس پر پولیس نے مولوی خالد بشیر سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا مگر مولوی خالد بشیر کے حامی اور مخالفین پولیس کی موجودگی میں آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔

یہاں سے معاملہ دوسرا رخ اختیار کرگیا اور پولیس نے ’فرقہ واریت اور نفرت انگیزی‘ کے بجائے متعدد افراد کو نقصِ امن کی دفعات کے تحت گرفتار کرلیا،  جس کے باعث فرقہ واریت اور نکاح کا معاملہ کہیں دب گیا۔

معاملہ آخر میں اس قدر الجھ گیا کہ مجسٹریٹ نے اس کو خارج کرتے ہوئے تمام افراد کو رہا کردیا۔

دوسری جانب میڈیا پر خبریں آنے کے بعد مولوی خالد بشیر روپوش ہوگئے جبکہ گاؤں والے تاحال اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا وہ مسلمان رہے ہیں یا نہیں اور کیا ان کو نکاح دوبارہ پڑھانا چاہئے یا نہیں۔

PUNJAB

HATE SPEECH

sectarianism

Tabool ads will show in this div