کراچی کے مقامی ریسٹورنٹ میں زہریلا کھانا کھانے سے2 بچے جاں بحق

کراچی کے مقامی ریسٹورنٹ میں زہریلا کھانا کھانے سے ڈیفنس کے رہائشی دو بچے جاں بحق ہوگئے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کیلیے انکوائری کیمٹی بنادی گئی ہے۔ بچوں کے والد ایک بچے کے پوسٹ مارٹم کے لیے راضی ہوگئے، جس کے بعد بچے کی نعش پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کردی گئی۔

ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو کے مطابق اے ایس پی کلفٹن سوہائی عزیز تحقیقاتی کیمٹی کی سربراہ ہونگی۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کہتے ہیں کہ فوڈ اتھارٹی سے رپورٹ ملنے کے بعد صورتحال واضح ہوگی، ابتدائی طور پر تو فوڈ پوازننگ لگ رہی ہے۔

 پولیس افسر کے مطابق نجی ریسٹورانٹ کے کک اور انتظامہ سے پوچھ گجھ کی جارہی ہے، ریسٹورنٹ میں موجود عملے اور مالکان سے تفتیش کی جارہی ہے۔ نجی ریسٹورنٹ کلفٹن میں واقعہ زمزمہ اسٹریٹ پر واقع ہے ، تفتیشی ٹیم کلفٹن میں واقعہ زمزمہ اسٹریٹ پہنچی اور ہوٹل مالکان سے متاثرہ اہلخانہ کے آرڈر کی تفصیلات طلب کرلیں۔

پولیس کی تفتیشی ٹیم نے نجی ریسٹورنٹ میں لگے سی سی ٹی وی کی فوٹیجزحاصل کرلی ۔

پولیس نے ریسٹورنٹس سے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ بچوں کی والدہ کا بھی ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیا گیا۔

والدہ کہتی ہیں کہ بچوں نے پہلے کلفٹن میں واقع  نجی ریسٹورنٹس سے چپس اور کینڈی فلاوس (گڑیا کے بال ) کھائے، پھر کھانا کھایا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی جبکہ ایڈشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کہتے ہیں کہ معاملے کے ہر پہلو سے تفتیش کررہے ہیں، بچوں کی والدہ سے ملاقات کی ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اہلخانہ رات کو 2 بجے گھر واپس آئے اور ان کی حالت صبح 6 بجے مزید خراب ہوئی۔

ایڈشنل آئی جی کراچی کا کہنا تھا کہ دیگر لوگوں کی شکایات کو بھی دیکھ رہے، اجازت لیکر بچوں کے پوسٹ مارٹم کا دیکھ رہے، جبکہ دونوں جگہ پر کچن کو سیل کیا ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کا دورہ سندھ فوڈ اتھارٹی ڈائریکٹر ابرار شیخ نے زمزمہ میں ریسٹورنٹ کا دورہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ریسٹورانٹ میں پرانا بچا ہوا کھانا فرج میں رکھا ہوا تھا۔

ڈائریکٹر سندھ فوڈ اتھارٹی کہتے ہیں کہ ریسٹورانٹ میں مختلف اشیاء کے نمونے بھی لیے گئے اور قوانین پر پورا نہ اترنے پر آوٹ لیٹ کو سیل کردیا گیا۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا نوٹس

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے دو بچوں کی اموات کا واقعے نوٹس لیا، بچوں کی اموات پر اظہار افسوس کیا اور ایڈیشنل آئی جی سے رابطہ کیا اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داران کا تعقب کیا جائے اور متاثرہ خاتون کےعلاج کا مکمل خیال رکھا جائے۔

متاثرہ خاندان سے بھی تفتیش کی جارہی ہے، تفتیشی حکام تفتیشی حکام کہتے ہیں کہ واقعےکی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے، متاثرہ خاتون کو ان کے ماموں اور دیور اسپتال لے کر آئے تھے۔

انکا کہنا تھا کہ خاتون چند روز قبل بچوں کے ساتھ سسرال آئی تھیں، کیوں کہ متاثرہ خاندان کے اپنے گھرمیں مرمت کا کام چل رہا ہے، خاتون کے شوہر کا لاہور میں تعمیرات کا کام ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ اہلخانہ کے گھر کا بھی انویسٹی گیشن ٹیم نے معائنہ کیا، اور گھر کے اندر بھی کھانے کی بیشترچیزیں موجود تھیں، حکام نے گھر میں موجود اشیاء کے بھی نمونے لیے گئے ہیں۔

تفتیشی حکام کہتے ہیں کہ متاثرہ خاتون کے شوہر، ماموں اور دیور سے تفتیش جارہی ہے، گھر میں خاندان کے 5 افراد موجود ہیں، تمام کے بیانات لیے گئے ہیں۔

والد پوسٹ مارٹم پر راضی نہیں، ایس پی کلفٹن ایس پی کلفٹن سہائے عزیز کہتی ہیں کہ بچوں کے والد پوسٹ مارٹم کیلیے رضامند نہیں۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ بچوں کی فیملی بھی اسپتال پہنچ گئی ہے، متاثرہ فیملی کا تعلق کراچی سے ہی ہے۔

ایس پی کلفٹن کہتی ہیں کہ اصل صورتحال سامنے لانے کیلیے پوسٹ مارٹم کا ہونا ضروری ہے۔

اسپتال آنے سے قبل ہی چھوٹا بچہ دم توڑ چکا تھا، ڈاکٹر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نجی اسپتال کے ڈاکٹرعالمگیر احمد نے بتایا کہ دوپہر دو بج کر پینتالیس منٹ پر فیملی اسپتال لائی گئی، دونوں بچے انتقال کرچکے ہیں، جبکہ والدہ کاعلاج جاری ہے۔

ڈاکٹر عالمگیر احمد نے کہا کہ اسپتال آنے سے قبل ہی چھوٹا بچہ دم توڑ چکا تھا ، بڑا بیٹا بھی جانبر نہ ہوسکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو صبح سے الٹیاں ہورہی تھیں، چھوٹے بیٹے کی موت ساڑھے 3 جبکہ بڑے کی 4 بجے ہوئی۔

unhygienic food

Tabool ads will show in this div