تازہ ترین

ڈی جی نیب کے ٹی وی انٹریوز کیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع

ڈی جی نیب
Nov 09, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/NA-SPEECH-SHAHID-KHAAN-ABBASI-PTV-09-11.mp4"][/video]

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ڈائریکٹر جنرل لاہور نیب کے ٹی وی انٹرویوز کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کرادی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا تو اسپیکر ایوان میں وزراء اور سیکریٹریز کی غیر حاضری پر برہم ہوگئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سوالوں کے جواب کون دے گا، ؟ کوئی بھی ذمہ دار بندہ موجود نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔

 

وزارت داخلہ کی جانب سے جوابات نہ آنے پر بھی اسپیکر اسد قیصر برہم ہوئے اور کہا وزیر داخلہ بتائیں کہ سوالوں کے جواب کیوں نہیں آ رہے۔ اسپیکر نے جوابات نہ دینے والی وزارتوں کے سیکریٹریز کو اپنے چیمبر میں طلب کرلیا۔

تحریک استحقاق کا متن

بعد ازاں ایوان کا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ڈی جی نیب لاہور کے ٹی وی انٹرویوز کے خلاف تحریک استحقاق قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔ تحریک میں مؤقف پیش کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور سلیم شہزاد نے چیئرمین نیب کی منشاء سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا، معاملے پر تحریک استحقاق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ڈی جی نیب نے اپوزیشن اراکین کا میڈیا ٹرائل کیا، جمع کرائی گئی تحریک میں مزید کہنا تھا کہ ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی۔

شاہد خاقان عباسی

ٹی وی انٹرویو کے خلاف اپنے ردعمل میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وقفہ سوالات میں کہا کہ ہم احتساب چاہتے ہيں، ان سے نہيں چاہتے جو ٹي وي پر آتے ہيں، جو باتيں ڈي جي نيب لاہور کر رہے ہيں وہي حکومت کرتي ہے۔ حکومتی اراکین کو مخاطب کرکے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر ایوان کے وقار کا تحفظ نہیں کرسکتے تو بتا دیں۔

 

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بات کرنے کا موقع ديا جائے تاکہ حقائق سامنے آئيں، چیئرمین نیب کی ہدایت پر ایک افسر اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کر رہا ہے، اس شخص کی ڈگری بھی جعلی ہے، سرکاري افسر نے چيئرمين کي ہدايت پر ايوان کا تقدس پامال کيا، یہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ تفتیشی ادارے کسی کو بےعزت نہیں کریں گے، لہٰذا نیب افسر کے خلاف تحریک استحقاق لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیب افسر نے دستاویزات کا میڈیا پر حوالہ دیا، جو خفیہ ہیں، کیا نیب کو ممبران کی بے عزتی کرنے کی اجازت ہے؟، نیب افسر ٹی وی پر وہ چیزیں بتا رہا ہے، جو پبلک نہیں ہوسکتیں، 31 سال سے ایوان میں آرہا ہوں، آج تک ایسا ہوتے نہیں دیکھا۔

نوید قمر

ڈی جی نیب انٹرویو پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیر رہنماء نوید قمر کا کہنا تھا کہ يہ معاملہ پي ٹي آئي اور پيپلز پارٹي کا نہيں پورے ايوان کا ہے، یہ تمام ممبران کي بےعزتي ہے، کيا نيب کي پاليسي ميڈيا ٹرائل ہے، اگر ممبران کے میڈیا ٹرائل کی اجازت دی تو یہ سلسلہ جاری رہے گا، کیا اب نیب کی یہ پالیسی ہے کہ وہ صرف میڈیا ٹرائل کریں گے۔ جس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ تحریک استحقاق کی فائل آئے گی تو اس پر قانونی رائے لوں گا۔

فواد چوہدری

اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی کو ایم این اے ہونے کی وجہ سے چھوٹ نہیں دی جاسکتی، تحریک استحقاق کا ہتھیار استعمال کر کے کیس پر اثر انداز ہونا درست نہیں، ایسے کیس پر تحریک استحقاق لانا قانون کے خلاف ہوگا، اپوزیشن اسپیکر کو ڈکٹیٹ نہ کرے۔

 

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آپ کہتے ہيں کہ ميڈيا ٹرائل کيا جا رہا ہے، ديکھنا یہ ہوگا کہ یہ معاملہ شروع کيسے ہوا، شہباز شريف نے 3گھنٹے اپنا مدعا بيان کيا تھا، اپوزیشن لیڈر کی وہ تقرير تمام چينلز پر چلي تھي، يہ کيس ابھي زير تفتيش ہے، زير تفتيش کيس پر تحريک استحقاق لانا غير قانوني ہے، ارکان اسمبلی آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔

رانا تنویر

سابق وزیر مملکت اور ن لیگی رہنماء رانا تنویر نے کہا کہ یہ حکومت اور نیب کا گٹھ جوڑ ہے کہ ایک گریڈ 19،20 کے نیب افسر نے میڈیا ٹرائل کیا، فواد چوہدری کی بہت عزت کرتا ہوں، مگر فواد چوہدری ایسی غلط تشریح پیش نہ کریں، یہ انٹرویو نہیں میڈیا ٹرائل تھا، نیب کو انصاف کرنا ہے تو انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہئے۔

انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ یہ انصاف نہیں بے انصافی ہو رہی ہے، ایک گریڈ 19،20 کے افسر میں اتنی مجال نہیں کہ وہ بغیر آشیر باد کے اتنی بڑی باتیں کرسکے، ڈی جی نیب اوپر سے منظوری کے بغیر اتنی بڑی بات نہیں کرسکتا۔

ڈی جی نیب لاہور کے انٹرویو میں کیا تھا؟

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد نے 7 نومبر کو نجی نیوز چینل دنیا ٹی وی اور بعد ازاں اے آر وائی، ہم ٹی وی، جیو نیوز اور سماء ٹی وی پر نیب تفتیش سے متعلق خصوصی انٹرویو دیئے تھے۔ اپنے ٹی وی انٹرویوز میں ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے خلاف ضرورت سے زیادہ شواہد اکٹھے کر لیئے ہیں، رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کر دینگے۔

 

ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے شہباز شریف کی احد چیمہ سے مبینہ گفت گو سے متعلق بھی ٹی وی چینلز کو بیان دیا اور کہا کہ شہباز شریف نے احد چیمہ کو کہا کہ آپ کیوں وعدہ معاف گواہ بن گئے، الیکشن ہو رہے ہیں ہماری حکومت آجائے گی۔

 

جیو ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈی جی نیب نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کے اثاثے بیٹوں کے نام ہیں، جب کہ شہباز شریف کے داماد نے سرکاری رقم اپنے اکاونٹ میں ڈالی، اور اب علی عمران ملک سے باہر ہیں، سلمان شہباز کو طلب کیا تو وہ ملک سے باہر چلے گئے، ان لوگوں کی جانب سے آگ لگا کر سرکاری ریکارڈ تباہ کیا جاتا ہے،نواز شریف پر بھارت منی لانڈرنگ کا الزام جھوٹا تھا۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعد رفیق کیس میں جو گواہ آتا ہے وہ غائب ہوجاتا ہے، جب کہ پی ٹی آئی رہنما علیم خان کا کیس معمول کے ردھم پر چل رہا ہے۔

 

ڈی جی نیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ چوہدری برادران کو بھی حراست میں لے سکتے ہیں، آشیایہ کیس میں ریفرنس اسی ماہ داخل کریں گے،جب کہ شہباز شریف کے خلاف چنیوٹ نالے کا کیس بھی کھل گیا ہے۔

NATIONAL ASSEMBLY

DG NAB

saleem shahzad

Tabool ads will show in this div