آسیہ بی بی کے معاملے سے حکومت کا براہ راست کوئی تعلق نہیں، وزیر اطلاعات

Nov 08, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/SM-FAWAD-CH-1800-SOT-08-11.mp4"][/video]

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ آسیہ بی بی کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور حکومت کا براہ راست اس حوالے سے کوئی تعلق نہیں۔


اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ رات آسیہ بی بی کے ملک باہر جانے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ صحافت کی گئی۔

سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر 2018 کو آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا جس کے بعد بدھ 7 نومبر کی رات آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کی افواہیں بھی گردش کرنے لگیں۔

آسیہ بی بی کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے متضاد خبریں

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین بہت کامیاب رہا اور جنتی کامیابی اس دورے سے ملی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر معاہدہ پر دستخط ہوئے ہیں جبکہ ڈاکٹرعافيہ کے معاملے پر پيشرفت ہو رہي ہے۔

اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پیسوں کے حوالے سے نہ پوچھیں تو ایوان کا ماحول درست رہے گا، اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت ان کی چوری کے اوپر ہاتھ نہ ڈالے لیکن مک مکا کی سیاست اب مزید نہیں چلے گی۔

سینیٹر اعظم سواتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کا کیس عدالت میں ہے لیکن وہ مستعفی نہیں ہو رہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف کو نہیں دے سکتے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ گزشتہ دور حکومت کے آڈٹس ہم کریں اور جب ہمارے منصوبوں کے آڈٹ کا وقت آیا تو اپوزیشن آڈٹ کا جائزہ لیں۔

کابینہ اجلاس

وفاقی کابینہ اجلاس سے متعلق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو ستر دن آج مکمل ہوگئے اور اب تک کابینہ کے گیارہ اجلاس ہو چکے ہیں، کابینہ اجلاس میں اب تک 120 فیصلہ کیے گئے ہیں جن میں سے 72 فیصلوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ آج کے اجلاس میں جن فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوا ان پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ احمد نواز سکھیرا کو بورڈ آف انوسٹمنٹ کا سربراہ تعیانت کر دیا گیا ہے جبکہ ایس ای سی پی کا نیا پالیسی بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایف بی آر کی پالیسی، پالیسی بورڈ بنائے گا اور ٹیکس کی پالیسی کے لیے بورڈ تشکیل دیا جائے گا، اجلاس میں لبرٹي ايئرلائن کو لائسنس کي منظوري دي گئي ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوتے سالہا سال گزر گئے، نواز شریف کے دور حکومت میں کابینہ کے اجلاس ہی بہت کم ہوتے تھے۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی

اس سے قبل وزیر اعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی بیٹھک میں عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد میڈیا رپورٹس میں بتائی گئی کرپشن بہت کم لگتی ہے، اقتدار میں آکر تو حیران کن گھپلوں کا علم ہوا۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ کرپشن میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی ابھی آٹے میں نمک کے برابر ہے، بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا تو ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔

وزیر اعظم نے حالیہ دھرنا بروقت ختم کرانے پر وزیر مذہبی امور نور الحق کو شاباش اور مبارکباد بھی دی۔ اجلاس کو دورہ چین سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ چین نے پاکستان کی تاریخی مدد کی ہے۔

ارکان نے وزیر اعظم کو انتخابی حلقوں کے مسائل بتائے جس پر ارکان کے مسائل حل کرنے کا ٹاسک وزیر دفاع پرویز خٹک کو سونپ دیا گیا۔

CABINET MEETING

Aasia bibi case

Tabool ads will show in this div