ايم ڈی واٹر بورڈ کی واٹرکميشن کے سامنے دہائی

ايم ڈی واٹر بورڈ نے واٹرکميشن کے سامنے پیش ہوکر کہا چاليس سال تک کہا گيا کہ پانچ سو پچاس ملین گیلن پانی آ رہا ہے، میٹرز لگے تو پتا چلا کراچی کو اتنا پانی مل ہی نہیں رہا۔

ڈی ایچ اے ۔ کنٹونمنٹ بورڈ افسران سمیت ایم ڈی واٹر بورڈ واٹر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، دوران کارروائی کمیشن نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کو پانی نہیں مل رہا اور آپ کو احساس نہیں،جس پر ڈی ایچ اے افسر نے کہا کہ نئے منصوبوں سے کراچی کے پانی میں اضافہ ہوگا ۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا چالیس سال تک کہا گیا 550 ملین گیلن پانی آرہا ہے ۔ میٹرز لگے تو پتا چلا اتنا پانی نہیں مل رہا ۔ جس پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ۔ علاقہ مکینوں کو پانی کی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ۔

مزید پڑھیے : پانی چوری کے معاملے پر قومی اسمبلی ميں گرماگرمی

کمیشن نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت ڈائریکٹرلینڈ نے رہائشی پلاٹس کمرشل استعمال کی اجازات دی، کمیشن نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ریجنل ڈائریکٹرکی جاب پروفائل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کیا خوبی ہے ان میں جو آٹھ سال سے تعینات ہیں اور جو حیدر آباد میں تباہی پھیلائی اس کا ذمہ دار کون ہے، کمیشن نے ریجنل ڈائریکٹر حیدر آباد کی بھی سرزنش کی ۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ لطیف آباد کے رہاشی پلاٹس جو کمرشل میں تبدیل کیے گئے اس کے ذمہ داروں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے، کمیشن کی مزید کارروائی نو نومبر کو حیدر آباد میں ہوگی۔

 

water issue

MD Water Board

Water Commission

Tabool ads will show in this div