امریکی تاریخ میں پہلی 2 مسلم خواتین رکن کانگریس منتخب

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/MA-MUSLIM-IN-CONGRESS-PKG-07-11-ASIF-IQ.mp4"][/video]

امریکی مڈٹرم الیکشن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی، پہلی بار 2 مسلم خواتین بھی کانگریس کی رکن منتخب ہوگئیں۔

امريکی تاريخ کے اہم ترين وسط مدتی انتخابات میں پہلی بار مسلم خواتين کانگريس کیلئے منتخب ہوگئيں، الہان عمر نے منیسوٹا اور راشدہ طلائب نے مشی گن سے کاميابی حاصل کی جبکہ 44 سالہ آندرے کارسن انڈيانا سے چھٹی بار رکن منتخب ہوگئے۔

الہان عمر اور راشدہ طلائب دونوں ہی کے خيال ميں سوشلزم بہتر نظام زندگی ہے، موغا ديشو ميں پيدا ہونے والی 37 سالہ الہان کی زندگی دکھ درد لیکن عزم اور جدوجہد سے عبارت ہے۔

مسلم رہنما کيتھ ايليسن کی جگہ ايوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہونے والی الہان عمر 2016ء ميں منیسوٹا اسمبلی کی رکن منتخب ہوچکی ہیں۔

دوسری جانب 42 سالہ فلسطينی نژاد راشدہ طلائب قانون کی ڈگری رکھتی ہيں، وہ پہلی بار 2008ء ميں مشی گن سے اسمبلی کی ممبر بنی تھيں، راشدہ کے والد مقبوضہ بيت المقدس اور والدہ اُردن سے تعلق رکھتی ہيں۔

راشدہ طلائب کے بھائی بہنوں کی تعداد 14 ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا بچپن اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی نگہداشت ميں گزرا ہے۔

امريکی نظام تعليم کے ناقد اور مدرسوں کے نظام سے رہنمائی کے طالب 44 سالہ آندرے کارسن پہلی بار 2008ء ميں انڈيانا سے کانگريس کے رکن منتخب ہوئے تھے، ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے۔

USA

Midterm Election

Rashida Tulaib

Ilham Umar

Tabool ads will show in this div