کراچی والے کیا آج بھی ٹریفک میں پھنسے رہینگے؟

Nov 06, 2018

کراچي والے کيا منگل کو بھی کئي گھنٹے ٹريفک جام ميں پھنسے رہيںگے۔ جی ہاں صبح گھر سے نکلتے ہوئے ہر متاثرہ شخص کے ذہن میں یہ ہی سوال تھا۔

کیا ٹريفک پوليس نے متبادل راستوں کا انتظام کر رکھا ہے؟ کیا ٹريفک جام کو کلئير کيا جائے گا؟ ان ہی سوالات کے جوابات کیلئے ہم گئے ڈي آئي جي ٹريفک جاويد مہر کے پاس، جن کا کہنا تھا کہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے پوليس کي اضافي نفري تعينات کي ہے، بہتر انداز ميں ٹريفک بحال کرنے کي کوشش کر رہے ہيں۔

ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ صبح سے ہی پارکنگ پلازہ، ايم اے جناح روڈ، اکبر روڈ اور متصل سڑکوں پر ٹريفک جام ہے، اس ٹریفک جام کی ایک وجہ صدر اور اطراف کے علاقوں ميں تجاوزات کيخلاف جاری آپريشن بھی ہے، آپريشن کيلئے موجود ہيوي مشينري سے ٹريفک کي رواني متاثر ہے۔ اکبر روڈ، عبد اللہ ہارون، نيو پريڈی اسٹريٹ، ايمپريس مارکيٹ، لکي اسٹار، زينب مارکيٹ ، ايم اے جناح روڈ، ايمپريس مارکيٹ، ريگل چوک، ريمبو سينٹر پر ٹريفک کي رواني متاثر ہے۔

ٹریفک پولیس حکام کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ، شاہین کمپلیکس، گورنر ہاؤس روڈ، آرٹس کونسل روڈ، پاکستان چوک، پیپر مارکیٹ میں ٹریفک کا دباو زیادہ اور رش ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر کراچي ميں عدالتي حکم پر تجاوزات کے خلاف کے ايم سي کا آپريشن دوسرے روز بھي جاري ہے۔ صدر ايمپريس مارکيٹ اور ديگر علاقوں سے تجاوزات پتھارے اور ٹھيلے ہٹا ديئے گئے ہیں۔ کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے موقع پر شہري تعاون کر رہے ہيں۔

کے ايم سي کے ميونسپل کمشنر کا کہنا ہے کہ آپریشن میں کوئی خاص مزاحمت نہیں ہو رہی ہے۔ آپریشن کی نگرانی میونسپل کمشنر کے ایم سی سیف الرحمان کر رہے ہیں۔ آپريشن کے دوران دکانوں پر لگے اضافي بورڈز ہٹائے جا رہے ہيں۔ کے ايم سي اور پوليس اہلکار آپريشن کی جگہوں پر موجود ہیں۔ آپریشن کے پہلے روز درجنوں پتھارے، شیڈز اور دیگر سامان ضبط ، جب کہ گزشتہ روز 6 افراد کو حراست ميں بھي ليا گيا۔

آپریشن کی حکمت عملی

شہری حکومت کی جانب سے آپریشن کو 3 مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں فٹ پاتھ صاف کیے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں دکانوں کے اضافی حصے ہٹائے جائیں گے، جب کہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 300سے زائد غیر قانونی دکانیں مسمار کی جائیں گی۔

صدر کا محل وقوع

تاریخی اہمیت کے حامل صدر کے اس علاقے کو 1947ء سے 1960ء کی دہائی میں کراچی کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی، جہاں وفاقی حکومت کے دفاتر بھی ایک زمانے میں موجود تھے، تاہم شہری اور صوبائی حکومت کے دفاتر تاحال یہاں موجود ہیں۔ صدر کے مصروف ترین علاقے میں مختلف کمپنیز اور اداروں کے دفاتر کی بھر مار ہے، جب کہ بڑے بڑے بینکوں کے ہیڈ آفس اور مرکزی دفاتر بھی اسی علاقے میں ہیں۔

اسی علاقے میں حکومت کی جانب سے پرانے جہانگیر پارک کو نئی طرز پر تعمیر کیا گیا، جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور ہر عمر کے افراد یہاں جوق در جوق آتے ہیں اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ علاقے میں نو آبادیاتی دور کی کئی عمارات بھی قائم ہیں، جن میں سندھ اسمبلی ، جناح ہال اور سندھ کلب شامل پرانی اور مشہور عمارتیں ہیں۔ پرانی عمارتوں سے سجا یہ علاقے ناقص پلاننگ، تجاوزات کی بھرمار اور لینڈ پارکنگ مافیا کے باعث مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔

وقت کے دھارے میں لینڈ مافیا نے تجاوزات قائم کرکے اس علاقے کا نقشہ ہی بدل دیا۔ جگہ جگہ لگے پتھاروں نے نہ صرف ٹریفک کا نظام درہم برہم کیا بلکہ پتھاروں نے شہریوں سے فٹ پاتھوں سے چلنے کا حق ہی چھین لیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بلدیاتی ادارے اور پولیس ایمانداری سے ذمہ داری نبھائیں تو قبضہ مافیا بار بار صدر کا نقشہ بگاڑنے کی جرات نہ کریں۔

ENCROACHMENT

Karachi traffic

Tabool ads will show in this div