ایران پر معاشی پابندیاں، ترکی نے امریکا کو خبردار کردیا

Nov 06, 2018
Turkey's Foreign Affairs Minister Mevlut Cavusoglu holds a press conference in Tokyo on November 6, 2018. Photo / AFP
Turkey's Foreign Affairs Minister Mevlut Cavusoglu holds a press conference in Tokyo on November 6, 2018. Photo / AFP
[caption id="attachment_1328757" align="aligncenter" width="640"] Turkey's Foreign Affairs Minister Mevlut Cavusoglu holds a press conference in Tokyo on November 6, 2018. Photo / AFP[/caption]

ترکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر پابندیاں عائد کرکے تنہائی کا شکار بنانا ’خطرناک‘ ہے۔  معاشی پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ معنی خیز مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں باراک اوبامہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم کرکے تمام پابندیاں دوبارہ عائد کردی ہیں۔

تازہ پابندیوں کا اطلاق 5 نومبر سے ہوچکا ہے جبکہ ترکی سمیت 8 ممالک کو امریکا نے ایران سے تیل درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

جاپان کے دورے کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا کہ ہم نے امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کے لیے واشنگٹن سے بات کی تھی جبکہ ہم نے امریکا کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ایران کو تنہا کرنا دانشمندی نہیں ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو تنہائی کا شکار بنانا خطرناک ہے اور یہ ایران کے عوام کے ساتھ نا انصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی ہر قسم پابندیوں کے خلاف ہے۔ ہم پابندیوں کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کے بجائے معنی خیز مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

امریکا نے 2015 میں ایک معاہدے کے تحت ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کردی تھیں تاہم گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ ختم کرکے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی ہیں جا اطلاق  پیر 5 نومبر سے ہوچکا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے ترکی اور جاپان سمیت 8 ممالک کو ایرانی تیل درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ہم امریکا غیر قانونی پابندیوں کو شوق سے نظر انداز کریں گے جبکہ پابندیوں سے ہونے والا نقصان تیل کے برآمد سے پورا کریں گے۔

Tabool ads will show in this div