مولانا سمیع الحق کا قتل،تینوں ملازمین کی نقل و حرکت پر پابندی عائد

Nov 05, 2018

قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے مقتول مولانا سمیع الحق کے کیس میں اہم پیش رفت کا دعوی کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے مولانا سمیع الحق کے تین ملازموں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مولانا سمیع الحق قتل کیس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کی جانب سے بڑی پیش رفت کا دعوی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مولانا سمیع کے تینوں ملازمین کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

 

پولیس کے مطابق تینوں ملازمین کے موبائل فونز کی فرانزک لیب سے جانچ پڑتال اور ڈیٹا چیک کیا جائے گا۔ مولانا سمیع الحق کے سیکریٹری احمد شاہ، ڈائیور اور ملازم کے فونز کو فرانزک چیکنگ کیلئے لاہور لیب بھیجوا دیا گیا ہے۔

 

اس سے قبل پولیس نے واردات کی مختلف زاویوں سے تفتیش کرتے ہوئے مقتول سمیع الحق کے موبائل کا ڈیٹا بھی فرانزک لیب بھجوایا۔ سیکیورٹی اداروں نے مولانا سمیع کے علاقے کی جیو فینسنگ کرانے کا بھي فیصلہ کیا ہے۔

 

مولانا سمیع کے سیکریٹری، ڈرائیور اور ملازم کی نقل و حرکت پولیس اجازت سے مشروط ہوگی، جب کہ سات پڑوسیوں اور ایمبولینس عملے کے بیانات بھی قلمبند کر ليے گئے ہیں۔

 

دوسری جانب دارالعلوم حقانیہ کی سربراہی کیلئے مولانا سمیع الحق کے بعد بھائی مولانا انوار الحق کو مہتمم مقرر کردیا گیا۔ مولانا عبدالحق کی پگڑی مولانا سمیع الحق کے بعد بھائی انوار الحق کے سر پر رکھی گئی۔ مولانا سمیع الحق کے قریبی دوستوں نے مولانا انوار الحق کی دستار بندی کی۔

 

مولانا سمیع الحق کے بعد دارالعلوم حقانیہ کے تمام امور مولانا انوارالحق سرانجام دینگے۔

 

واضح رہے کہ 2 نومبر کو راول پنڈی کے علاقے میں مولانا سمیع الحق اپنے گھر میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملے کے وقت مولانا سمیع الحق گھر میں اکیلے تھے اور ان کے ملازم اور گارڈز کھانا لینے گئے ہوئے تھے۔ مولانا سمیع الحق پر پہلے قاتلوں نے چھری کے وار کئے اور پھر فائرنگ کی۔

 

ان کے پوتے مولانا عبدالحق کے مطابق حملہ آوروں سے متعلق کچھ پتا نہ چل سکا۔ مولانا سمیع الحق کی نمازِجنازہ 3 نومبر کو مدرسہ اکوڑا خٹک میں ادا کی گئی۔ جے یو آئی س کے رہنماؤں نے مولانا سمیع الحق کا پوسٹ مارٹم کروانے سے بھی انکار کردیا تھا۔

پس منظر

مولانا سمیع الحق صاحب 18 دسمبر 1937ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولانا عبد الحق تھا۔ انہوں نے 1946 ء میں دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی  وہاں انہوں نے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق ، عربی صرف و نحو ، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔

 

ان کوعربی زبان پرعبور حاصل تھا لیکن ساتھ ساتھ اردو اورعلاقائی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ مولانا سمیع الحق صاحب دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے۔ وہ دفاع پاکستان کونسل کے چئیرمین اور جمیعت علما اسلام کے سمیع الحق گروپ کے امیر بھی تھے۔

 

مولانا سمیع الحق پاکستان سینیٹ رکن بھی رہے ہیں اور متحدہ دینی محاذ کے بھی بانی ہیں جو پاکستان کے چھوٹے مذہبی جماعتوں کا اتحاد تھا جو انہوں نے سال 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنایا تھا۔

Maulana Samiul Haq

Jamia Dar al-Ulum Haqqania

Father of Taliban

Tabool ads will show in this div