شدت پسندی کے خلاف اقدامات کی ضرورت ہے،فواد چوہدری

Nov 03, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/Fawad-CH-BBC-SOT-03-11.mp4"][/video]

وفاقي وزيراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خلاف اقدامات کی ضرورت ہے ۔

برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیراطلاعات نے کہا کہ پرتشدد احتجاج روکنا حکومت کی ترجيحات ميں شامل ہے۔ في الحال آگ پر قابو پانے کيلئے اقدامات کئے،يہ مستقل حل نہيں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل ہم سب کيلئے اہم ہے۔ پرتشدد مظاہرين پر قابو پانا وقت کي اہم ضرورت ہے، مسئلے کا مستقل حل نکالنے کيلئے کوشاں ہيں۔

واضح رہے کہ  جمعہ کی رات پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک لبیک کے رہنماؤں نے کہا کہ کارکنان ملک کے تمام شہروں  میں دھرنا ختم  کرکے پر امن طور پر منتشر ہو جائیں ۔رہنماؤں نے تنبیہ  کرتے  ہوئے کہا کہ ’’اگر حکومت نے آسیہ بی بی کو بیرون ملک بھیجا تو پھر جنگ ہوگی‘‘۔

آسیہ بی بی کیس:ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے،حکومت مذاکرات کیلئےتیار

تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان معاہدہ 5 نکات پر طے پایا جو درج ذیل ہیں۔

آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائر کردی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے۔ جس پر حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا۔

آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کےلئے قانونی کاروائی کی جائے گی۔

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے متعلق فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کی جائیگی۔

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فورا رہا کیا جائے گا۔

اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔

terrorism in pakistan

Tabool ads will show in this div