لاہور میں مذہبی تنظیم کے احتجاج کےخلاف 11 مقدمات درج

 

لاہور میں مذہبی تنظیم کے احتجاج اور دھرنےکے خلاف شہر کے  تھانوں میں 11 مقدمات درج کئے گئے۔

پولیس کے مطابق کہ شہر میں چار روز کے دوران جاری دھرنے کے باعث کئی سڑکوں کو بند کیاگیا۔ مذہبی تنظیم کی جانب سے احتجاج کے معاملے پرپولیس نے مختلف تھانوں میں 11مقدمات درج کئے۔

یہ مقدمات تھانہ ریس کورس، کوٹ لکھپت، فیکٹری ایریا، گڑھی شاہو، شاہدرہ، شاہدرہ ٹاؤن میں درج کیے گئے۔ ان مقدمات میں سربراہ تحریک لبیک علامہ خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری نامزد کئے گئے ہیں۔

حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد تحریک لبیک نے دھرنا ختم کر دیا

اس کے علاوہ 500سے زائد نامعلوم کارکنوں کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیاہے۔ یہ مقدمات ایم پی او 16 کے تحت اور نقص امن کی دفعہ 290 ،291 کے تحت   سڑکیں بلاک کرنے کے باعث درج کئے گئے۔

اس سے قبل،گذشتہ شب،آسیہ بی بی کیس کے معاملے پر حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جمعہ کی رات پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک لبیک کے رہنماؤں نے کہا کہ کارکنان ملک کے تمام شہروں میں دھرنا ختم کرکے پر امن طور پر منتشر ہو جائیں۔رہنماؤں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر حکومت نے آسیہ بی بی کو بیرون ملک بھیجا تو پھر جنگ ہوگی‘‘۔

آسیہ بی بی کیس:ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے،حکومت مذاکرات کیلئےتیار

تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان معاہدہ 5 نکات پر طے پایا جو درج ذیل ہیں۔

آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائر کردی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے۔ جس پر حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا۔

آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کےلئے قانونی کاروائی کی جائے گی۔

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے متعلق فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کی جائیگی۔

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فورا رہا کیا جائے گا۔

اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔

TLP protest

Tabool ads will show in this div