حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد تحریک لبیک نے دھرنا ختم کر دیا

آسیہ بی بی کیس کے معاملے پر حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔


جمعہ کی رات پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک لبیک کے رہنماوں نے کہا کہ کارکنان ملک کے تمام شہروں میں دھرنا ختم کرکے پر امن طور پر منتشر ہو جائیں۔

رہنماوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر حکومت نے آسیہ بی بی کو بیرون ملک بھیجا تو پھر جنگ ہوگی‘‘۔

آسیہ بی بی کیس:ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے،حکومت مذاکرات کیلئےتیار

تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان معاہدہ 5 نکات پر طے پایا جو درج ذیل ہیں۔

آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائر کردی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے۔ جس پر حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا۔

آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کےلئے قانونی کاروائی کی جائے گی۔

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے متعلق فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کی جائیگی۔

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فورا رہا کیا جائے گا۔

اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔

معاہدے پر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری اور وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت جبکہ تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے پير افضل قادري اور محمد وحيد نور کے دستخط موجود ہیں۔

اس سے قبل سماء سے خصوصی گفتگو میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا تھا کہ مظاہروں اور بند راستوں کے حوالے سے آج رات تک پیشرفت ہوجائے گی کیونکہ اب مذاکرات کا وقت ختم ہوچکا ہے۔

وزیراعظم  کے معاون خصوصی نے کہا تھا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے حکمت عملی تیار کرلی ہے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کافی وقت ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم

نعیم الحق نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر وزراء سے مسلسل رابطے میں ہیں، وزیراعلیٰ ہاوس میں ایک کنٹرول روم بنایا گیا ہے جہاں سے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 31 اکتوبر کی صبح عدالت عظمیٰ نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا جس کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک کی جانب سے مظاہرے جاری رہے۔

عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

PTI

cm punjab

NAEEM UL HAQ

TLP protest

Tabool ads will show in this div