وہ قدم اٹھانے پر مجبور نہ کيا جائے، جس کی آئين اجازت دیتاہے،آئی ایس پی آر

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/11/DG-ISPR-R-BPR-02-11-1.mp4"][/video]

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے کیس سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں، آسیہ کا معاملہ قانونی ہے، معاملے میں پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا افسوس ناک ہے، انہوں نے کہا کہ في الحال حکومتي سطح پر بات چيت کي جارہي ہے، افواج پاکستان کو طلب کيا گيا تو آرمي چيف مشورہ ديں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے سے گفت گو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ حکومت خود بھی معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے، ملک میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جائے، چار دنوں سے ملک میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال ہے، وہ قدم اٹھانے پر مجبور نہ کيا جائے جس کي آئين اجازت ديتا ہے۔

آصف غفور نے کہا کہ آسیہ بی بی کا کیس 10 سال سے عدالتوں میں چل رہا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں نے دھرنا دیا، آسیہ بی بی کا کیس قانونی معاملہ ہے، کيس سے متعلق افواج کے خلاف بات کرنا ٹھيک نہيں، في الحال حکومتي سطح پر بات چيت کي جارہي ہے، اگر افواج پاکستان کو  طلب کيا گيا تو آرمي چيف مشورہ ديں گے، چاہتے ہيں کہ امن و امان خراب ہوئے بغير مسئلہ حل ہو، وہ قدم اٹھانے پر مجبور نہ کيا جائے جس کي آئين اور قانون اجازت ديتا ہے ۔

 

ان کا کہنا تھا کہ تمام مسلمانوں کا آپ ﷺ سے محبت کا رشتہ ہے، اسلام ہمیں امن ، درگرز اور پیار کا درس دیتا ہے، ہمیں اسلامی تعلیمات اور قانون کو نہیں چھوڑنا چاہیے، نظر ثانی درخواست دائر ہوگئی، بہتر ہے کہ اس کیس کا قانونی عمل مکمل ہونے دیا جائے۔

 

ترجمان نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں فوج کو گھسیٹنا افسوس ناک ہے، افواج پاکستان دہشت گردوں کے خاتمے میں مصروف ہے۔

KHADIM HUSSAIN RIZVI

TLP

AasiaBibi

Tabool ads will show in this div