آسیہ بی بی کی رہائی کیخلاف احتجاج کے باعث کراچی کی بیشتر شاہراہیں بند

عدالت عظمیٰ کی جانب سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون آسیہ بی بی کو رہائی ملنے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہے جس کی وجہ سے کراچی شہر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔


چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کی درخواست پر فیصلہ سنایا جبکہ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا۔

اکتیس اکتوبر کی صبح آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ آنے کے بعد مشتعل مظاہرین نے ملک کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں مظاہرے شروع کیے جس کا شکار کراچی شہر بھی ہوا۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کے باعث اسکولوں میں جلد چھٹی بھی کر دی گئی جبکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے صبح سویرے دفتر جانے والے حضرات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم

شہر کی صورتحال

کراچی میں مظاہروں کی وجہ سے نصف سے زائد شاہراہیں بند کر دی گئی جبکہ کچھ علاقوں میں دکانیں اور پٹرول پمز بند کرانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

نمائندہ سماء شاہ نواز قادری سے بات کرتے ہوئے ترجمان ٹریفک پولیس نے بتایا کہ شہر میں جاری مظاہروں کی وجہ سے فی الحال متبادل راستے کا کوئی پلان نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مظاہرین اپنی مرضی سے جہاں چاہتے سڑک بند کر دیتے ہیں، تاہم عوام 15 پر کال کرکے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے اسٹار گیٹ، نمائش، ایم اے جناح روڈ، لٍلی پل، تین تلوار، بلوچی کالونی پل، ناگن چورنگی، سہراب گوٹھ، الآصف اسکوائر، کریم آباد، فیڈرل بی ایریا بلاک 19، نیٹی جیٹی سے کیماڑی اور ماڑی پور جانے والے روڈ پر رکاوٹیں لگا کر بند کردیا ہے۔

عوام کےلیے کھلے رہنے والی شاہراہوں میں شاہراہ قائدین، کوریڈو تھری، گرو مندر، ابوالحسن اصفہانی روڈ، یونیورسٹی روڈ، کشمیر روڈ، گلشن چورنگی سے ڈرگ روڈ اور ناتاخان پل سے شاہراہ فیصل کو جانے والا روڈ شامل ہے۔

ROADS BLOCK

Aasia bibi case

TLP protest

Tabool ads will show in this div