سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کو بری کردیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اس کو فوری طور پر بری کیا جائے، دوسری جانب عدالتی فیصلے کے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔کراچی میں بھی نمائش چورنگی،بلدیہ ،نیٹی جیٹی ،اورنگی ٹاؤن میں احتجاج کیا جارہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

اس کیس کا مکمل فیصلہ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

http://www.supremecourt.gov.pk/web/user_files/File/Crl.A._39_L_2015.pdf

 سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2018 کو آسیہ بی بی کی اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ کیس کا فیصلہ آج صبح سپریم کورٹ میں سنایا گیا۔ سپریم کورٹ کے بینچ کے سربراہ چیف جسٹس ثاقب نثار تھے جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان بھی بینچ کا حصہ تھے۔  توہین رسالت کے جرم میں آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر آسیہ بی بی نے سزائے موت کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی۔

آسیہ بی بی کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے اور اگلے برس سال 2010 میں انھیں اس مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ننکانہ صاحب شہر کے ایک گاؤں کے ایک نمازی رہنما کی طرف سے آسیہ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔2014 میں لاہور ہائیکورٹ نے ملزمہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آسیہ بی بی نے 2015 میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی ۔

آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے پر شہر شہر احتجاج جاری

اس کیس کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر جنوری 2011 میں اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے گارڈ ممتاز قادری نے فائرنگ کرکے اسلام آباد میں قتل کردیا تھا۔ بعد میں سلمان قادری کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

 فیصلہ آنے کے بعد کراچی میں نمائش ،بلدیہ،حب ریور روڈ، ٹاور، نیٹی جیٹی، اسٹار گیٹ ،قائد آباد، سہراب گوٹھ  پر احتجاج کیا جارہا ہے۔

گوجر خان میں  جی ٹی روڈ بلاک کردی ہے۔ سرگودھا میں 12 بلاک چوک شہید میں بھی احتجاج جاری ہے اور مظاہرین نے دکانیں بند کروا دی ہیں۔ اسلام آباد میں آب پارہ اور فیض آباد چوک میں بھی احتجاج جاری ہے۔ لاہور مال روڈ پر بھی احتجاج کیا جارہاہے۔

   

Aasia bibi

Tabool ads will show in this div