عظیم باپ کی عظیم قربانی، شہید بیٹے کی جگہ دوسرا بیٹا پولیس میں بھیج دیا

کرک کے مرکزی پولیس اسٹیشن کی حفاظت پر مامور کانسٹیبل محمد ریاض کے لیے ستائیس فروری 2010 کا دن عام دنوں جیسا ہی تھا، اس دن یہاں 40 سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔ واقعے سے ایک رات قبل کانسٹیبل محمد ریاض اپنی شادی کی تیاریوں سے متعلق اپنے والدین سے ملنے گھر بھی گئے تھے۔

اگلی صبح کانسٹیبل محمد ریاض پہلے سے زیادہ چوکنا ہوکر اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے نظر آئے کیونکہ حساس اداروں کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا تھا کہ دہشتگرد بارودی مواد سے بھری گاڑی یا خود کش حملہ آور کے ذریعے بنوں اور اس کے اطراف میں موجود کسی بھی سرکاری ادارے کی عمارت کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل ریاض نے اچانک ایک تیز رفتار ڈبل کیبن گاڑی کو اپنی طرف برھتے دیکھا۔ بنوں کی طرف سے آنے والی گاڑی انتہائی تیزی سے بھرے بازار سے گزرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کی جانب بڑھ رہی تھی۔ کانسٹیبل ریاض نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ایک لمبی آہ بھری اور کلاشنکوف (اے کے 47) اپنے سیدھے ہاتھ میں تھام لی اور دوسرے ہاتھ سے گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا، لیکن گاڑی نے اپنی رفتار مزید بڑھاتے ہوئے پولیس اسٹیشن کے قریب لگے پہلے بیریئر سے ٹکرا دی۔

کانسٹیبل ریاض نے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص پر فائر کھولتے ہوئے کلاشنکوف کا میگزین خالی کر دیا۔ گاڑی کو روکنے کی غرض سے گارڈ نے دوبارہ میگزین بھرنے کی کوشش کی لیکن جب تک بارودی مواد سے بھری گاڑی نے آخری بیریئر پر ٹکر مار دی جہاں کانسٹیبل ریاض موجود تھا اور ایک زور دھماکا ہوگیا۔

دھماکے کی آواز تقریبا 25 کلو میٹر دور تک لوگوں کو سنائی دی۔ دھماکے سے زمین میں 15 فٹ گہرا گڑا پڑ گیا۔ اس واقعہ میں 4 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے جبکہ قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

اس وقت کے ڈی پی او کرک سجاد احمد  کے مطابق کانسٹیبل محمد ریاض اور خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء علاقے میں موجود مختلف گھروں کی چھتوں سے ملے۔ واقعہ میں تقریبا 200 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

[iframe width="640" height="360" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0" marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/kRI_H6HzWJ8"]

ضلع کرک کی تاریخ میں اس سے زیادہ خوفناک دھماکہ پہلے کبھی نہیں ہوا جس میں پولیس اسٹیشن کے اندر کھڑی 20 گاڑیاں بھی مکمل تباہ ہوگئی۔ تھانے کی دیوار میں پڑنے والی دراڑیں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

ریاض کے والد مرید خان تخت نصرتی کے نواحی علاقہ لکرکی بانڈہ میں رہتے ہیں۔ ریاض ان کا بڑا بیٹا تھا۔ بڑے بیٹے کی موت کے بعد مرید خان نے اپنے دوسرے بیٹے محمد انور کو شہید ریاض کی جگہ پر بھیجا۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے مرحوم ریاض کے والد نے کہا ’’یہ میری خواہش تھی کہ ریاض پولیس میں شامل ہو اور اس کی قربانی نے کئی لوگوں کی زندگیاں بچائی‘‘۔

مرید خان اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میرے بیٹے کا نقصان کبھی پورا تو نہیں ہو سکتا لیکن اگر میرے جیسے باپ اپنے بچوں کو پولیس اور فورسز میں نہیں بھیجیں گے تو ملک میں امن کیسے قائم ہوگا۔ میرے پہلے بیٹے ریاض کے انتقال کے بعد بیشتر افراد نے مجھے اپنے چھوٹے بیٹے کو پولیس میں ملازمت کے لیے بھیجنے سے روکا لیکن اس کے باوجود میرے بیٹے محمد انور کو پولیس میں ملازمت مل گئی۔ بہرحال میرے اس فیصلے سے علاقے میں کافی چی مگوئیاں بھی ہوئیں۔ میرے شہید بیٹے کی جگہ چھوٹا بیٹا اسی پولیس اسٹیشن میں تعینات ہو کر عوام کی حفاظت میں مصروف ہوگیا۔

مرید خان میں آج تک اتنی ہمت پیدا نہ ہو سکی کہ یونیفارم میں ملبوث اپنے چھوٹے بیٹے کو اس پولیس اسٹیشن میں جا کر دیکھ سکیں جہاں بڑا بیٹا شہید ہوا تھا۔

کرک پولیس اسٹیشن پر فرائض انجام دینے کے بعد محمد انور کا تبادلہ کوہاٹ پولیس اسٹیشن کر دیا گیا۔ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے انہوں نے کیمرے کے سامنے آنے سے معذرت کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ یونیفارم پہن کر آنسو بہانا مناسب نہیں لگتا۔

کرک پولیس کے اہلکار شہید کانسٹیبل ریاض کا احترام کرتے ہیں۔ یہاں ایسے بہت سے افراد ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

کرک پولیس کے سربراہ ( ڈی پی او) افتخار الدین کہتے ہیں کہ پولیس فرائض کی ادائیگی کے دوران کافی نقصان اٹھاتی ہے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے پولیس کے 13 جوانوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔

ضلعی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے شہدا کے لواحقین کے لیے مقررہ پیکج دیا جاتا ہے۔ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی بھولے اور نہ بھولے گے۔ جب کبھی ان کے خاندان کو ہماری ضرورت پڑی تو مدد کے لیے ان کے دروازے  پر پہنچ جائیں گے۔

KPK

martyred Muhammad Riaz

Tabool ads will show in this div