قومی اسمبلی کا اجلاس، نيب رويے کيخلاف ن ليگ کا بائيکاٹ

قومي اسمبلی کے اجلاس میں ن ليگ نے نيب کے رويے کيخلاف بائيکاٹ کرديا تھا۔

اسپیکراسد قیصرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنما رانا تنوير نے شہبازشريف کو ايوان ميں تاخير سے لانے پراحتجاج ريکارڈ کرايا جس کے بعد ليگي ارکان احتجاجاً ايوان سے چلے گئے تھے ۔

شہباز شريف کا کہنا ہے کہ نیب والے مجھے لانا ہی نہیں چاہتے تھے، اسپیکر نے سوال کیا کہ کیا آپ کے خلاف انتقامی کارروائی ہورہی ہے؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔

اس وقت اپوزيشن ليڈر شہباز شريف قومي اسمبلي کے اپنے چيمبر ميں موجود ہيں جبکہ اسپيکر کي ہدايت پر شاہ محمود قريشي اور علي محمد خان اپوزيشن کو منانے کي کوششيں کررہے ہيں، تاہم شہبازشریف ایک بار پھر آصف زرداری کی ایک ساتھ ایوان میں آگئے۔

اس سے قبل نئے منتخب ارکان قومی اسمبلی سے اسپیکر اسد قیصر نے حلف لیا۔

پانی کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ حکومت پانی کے منصوبوں کے لئے سرکاری ترقیاتی پروگرام کا دس فیصد مختص کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہری علاقوں کو پانی کی فراہمی اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے لئے پالیسیاں وضع کررہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فاٹا اور بلوچستان میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے ان علاقوں میں ڈیم تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت فنڈز کی دستیابی کی صورت میں پاکستان مسلم لیگ نون کے آبی منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت نے آبی پالیسی تشکیل دی تھی اور کراچی میں (کے فور) منصوبے اور اسلام آباد کے کئی منصوبوں کیلئے فنڈز بھی مختص کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اسلام آباد کے لئے پانی کے کئی منصوبے ختم کر دیئے جن کے لئے پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کی جانب سے فنڈز مختص کیے گئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جارہا، کراچی کو بارہ سو کیوسک پانی کی ضرورت ہے جو فراہم نہیں کیا جارہا۔

NATIONAL ASSEMBLY

PML N

shabaz shariff

Tabool ads will show in this div