پاکستان نے ملا عمر کے قریبی ساتھی کو رہا کر دیا، افغان طالبان کی تصدیق

افغان طالبان کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کے سینیئر رہنما ملا عبدالغنی برادر کو کچھ دن قبل رہا کر دیا ہے۔


ملا برادر، ملا عمر سمیت ان چار آدمیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 1994 میں افغان طالبان کی تحریک شروع کی، ملا عبدالغنی برادر 2010 میں کراچی میں گرفتار ہوئے تھے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ملا عبدالغنی برادر منگل 23 اکتوبر کو اپنے خاندان کے پاس پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان نے فی الحال ملا عبدالغنی کی رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن ایک سینیئر انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

افسر کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بات چیت کی اطلاعات بھی موجود ہیں تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسا ہوگا یا نہیں۔

سماء ڈیجیٹل کے رابطہ کرنے پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ افغان طالبان اور امریکا، افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے ایک دوسرے سے قطر میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ملا برادر کی رہائی امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے ایک قدم ہو سکتا ہے۔

بارہ اکتوبر کو امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی طالبان کے وفد سے قطر میں ملاقات ہوئی تھی جس میں افغان تنازعہ کے حل کیلئے گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کی تصدیق افغان طالبان کی جانب سے کی گئی۔

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div