شہنشاہ غزل مہدی حسن کو پرستاروں سے بچھڑے دو سال بیت گئے

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


لاہور : مہندی حسن نے جو بھی گایا امر کر دیا، انہیں غزل گائیگی میں خاص ملکہ حاصل تھا اسی لئے تو شہنشہائے غزل کہلائے، ان کی غزلیں صرف پاکستان ہی میں نہیں، جہاں جہاں اردو موجود ہے شوق سے سنی جاتی ہیں۔ موسیقار نیاز احمد  تو کہتے ہیں مہندی حسن کے گلے میں جادو تھا۔
 
غزل ہو یا گیت، مہندی حسن کی آواز فضا میں بکھرے تو سننے والوں کو بے خود کردیتی ہے، ان کے گائے ہوئے فلمی گیت کئی فنکاروں کی پہچان بنے، غزل گائیک حامد علی خان کہتے ہیں مہدی حسن جیسے گائیک صدیوں میں پیدا ہوتے  ہیں۔

مہدی حسن طویل عرصے بیمار رہنے کے بعد تیرہ جون دو ہزار بارہ کو خالق حقیقی سے جاملے اور انہیں کراچی کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ دنیا میں لوگ اپنے لیجینڈ کو زندگی اور مرنے کے بعد بھی یاد رکھتے ہیں، مگر شہنشاہ غزل مہدی حسن کی اجڑی ہوئی قبر بے بسی کی داستان سنا رہی ہے۔ سماء

کو

سے

گئے

sister

granted

Tabool ads will show in this div