سپریم کورٹ کی راول ڈیم کی اراضی کےلیز ہولڈرز کوقانونی شرائط پوری کرنے کی مہلت

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/10/Sc-Rawal-Dam-Arazi-Case-Isb-Pkg-23-10.mp4"][/video]

سپریم کورٹ نے راول ڈیم کی اراضی کے لیز ہولڈرز کو تمام قانونی شرائط پوری کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری اراضی باپ کا مال سمجھ کر مفت میں الاٹ کی گئی ،ایک ماہ بعد خود جا کرمعائنہ کروں گا،جوشرائط پوری نہیں کرتے اُنھیں اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔

راول جھیل کے اطراف سرکاری اراضی کی بندر بانٹ پرکمپنیوں سمیت لیز ہولڈر قانون کے نرغے میں آگئے۔ سپریم کورٹ میں لیزاراضی کیس کی سماعت  کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جن فیسوں پر سرکاری اراضی لیز پر دی گئی،اِس پر کھوکھا بھی الاٹ نہیں ہوتا۔ باپ کی زمین کو بھی کوئی اس طرح مفت میں نہیں بانٹتا۔ لیز کی زمین کو آگے لیز پر دینا قابل قبول نہیں۔

عدالت نے ہارس کلب سمیت تمام لیز ہولڈر کوایک ماہ میں معاہدے کی تمام شرائط پوری کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے وارننگ دی کہ جو شرائط پر نہیں اترتے انھیں اٹھا کرباہر پھینک دیں گے۔ عدالت نے کیسز نیب کو بھجوانے کا بھی عندیہ دیا۔ عدالت نے لیز ہولڈر کمپنیز کو پارکس میں قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے خود جاکر معائنہ کرنے کا اعلان کیا اورکہا کہ دورے کے دوران موٹر بائیک کی رائڈ بھی لوں گا۔لیز معاہدے کے تحت چک شہزاد کے فارم ہاؤسز پر جرمانے لگتے ہیں تو لگائیں، کوئی فارم ہاؤس مقرر حد سے زیادہ ہے تو گرا دیں۔

rawal dam

operation against encroachments