کراچی منتقل ہونا کس طرح پاکستان کی معیشت پر اثرڈال رہا ہے

 

کراچی کی سڑکیں سونا نہیں اگلتیں مگر لوگ کراچی ہجرت کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ یہاں آکر ان کا طرزِزندگی بہتر ہوجائےگا۔ کچھ لوگوں کے لیے ہجرت کرنے کا مقصد نوکری، تعلیم یا صحت کے کسی مسئلے کی وجہ سے ہوتا ہے مگر پاکستان میں کراچی یا کسی اور شہر کی جانب منتقل ہونے سے معیشت پر بھاری اثر پڑتا ہے۔

شہروں میں لوگوں کی آمد بڑھنے سے  معیشت بھی پروان چڑھتی ہے۔ تاہم یہ معاملہ ہر بار نہیں ہوتا،شہروں کی جانب منتقل ہونے کا مطلب یہ ہےکہ ہمیں مزید توانائی درکار ہوگی۔ جیسے لوگ دیہات سے شہروں کی جانب منتقل ہونگے،ان کا طرزِ زندگی بدل جائےگا۔ پیدل چلنے یا گھوڑا گاڑی کے بجائے گاڑیوں یا موٹرسائیکلوں پر سفر کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ ذرائع آمد و رفت کے اخراجات بڑھنے سے زیادہ ایندھن بھی استعمال ہوگا۔ جیسے ان کی آمدنی بڑھے گی،لوگوں کے گیس اور بجلی میں مزید خرچے بڑھیں گے۔

پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کا معاملہ درپیش ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہماری درآمد زیادہ ہے اور برآمد کم اور ہمارے پاس ان ادائیگیوں کے لیے رقم نہیں ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ پیٹرولیم مصنوعات ہیں جو آمدو رفت اور بجلی کی پیدوار میں استعمال ہوتی ہیں۔ شہروں میں زیادہ لوگوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ لوگ گاڑیاں یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں گے اور زیادہ بجلی استعمال ہوگی۔ بڑھتی ہوئی طلب کا مطلب یہ ہوا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بڑھے گی۔

 زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ ہے کہ سال 2001 سے اب تک،ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں کمی یا اضافے کے ساتھ ہماری درآمدگی پر آنے والے خرچے میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے۔

عام طور پر شہر کی جانب نقل مکانی میں اضافے اور تیل کی طلب  بڑھنے کو معاشی پیداوار سے منسلک کیاجاتاہے۔ تاہم ایسا پاکستان میں نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں برآمدگی کے بڑھنے کی رفتار درآمدگی جیسی نہیں ہوتی۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اب کم مشینیں درآمد کررہے ہیں۔ ان مشینوں میں وہ سامان بھی شامل ہے جو ٹیکسٹائل، تعمیرات ، پاور جنریشن اور ٹیلی کام کی صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔

عالمی تقاضوں کے تحت، توانائی پر بطور معاشی پیدوار ہمارا انحصار کم ہوتا جارہا ہے۔ اس کا پیمانہ معاشی اصطلاح میں انرجی انٹنسیٹی ہے۔

یہ عالمی تقاضا اس لئے دیکھنے میں آرہا ہے کیوں کہ ایسی نئی ٹیکنالوجیز آگئی ہیں جن میں کم توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہناہےکہ ہماری انرجی انٹنسیٹی اس تیزی سے کم نہیں ہورہی جیسی ہونی چاہئے تھی۔

درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر ہمارا انحصار اس وقت بڑھتا ہے جب زیادہ لوگ شہروں کی جانب منتقل ہوجاتے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تاکہ ہمارا انحصار ایسے درآمدی اشیاء پر کم ہو۔ اس وقت، ہمارا بجلی کی پیداوار کا 49 فیصد حصہ درآمدی ذرائع پر ہے جو پچھلے چند برسوں میں بہتر ہوا ہے۔ امکان ہےکہ یہ شرح مزید کم ہوگی جب تھر کول پروجیکٹ کا فعال کردیا جائےگا۔ ماس ٹرانزٹ نظام کو متعارف کروانے کے بعد، جن میں لاہور کی میٹرو بس سروس اور کراچی کی گرین لائن سروس شامل ہیں، ایندھن پر ہمارا انحصار کم ہوگا کیوں کہ کم لوگ ذاتی گاڑیاں استعمال کریں گے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔

Urbanization

Karachi Mass transit

Mega cities of the World

Pakistan economic growth

Tabool ads will show in this div