مولاناسمیع الحق کاحکومت کالعدم طالبان مذاکراتی عمل سےعلیحدگی کااعلان

ویب ڈیسک:
انگوراڈہ : شمالی وزیرستان میں فورسز کی بمباری کے بعد جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خود کو الگ تھلگ کرنا چاہتا ہوں۔،

نوشہرہ میں میڈیا سے گفت گو میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا بار بار رابطے اور پیغامات کے باجود حکومت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا، جس کے بعد حکومت اور کالعدم طالبان کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں بمباری کے بعد یہ فیصلہ کیا، وزیراعظم کو پیغام دیا تھا اور حکمت عملی کا انتظار کر رہا تھا، انہوں نے کہا کہ یکم جنوری کو کالعدم طالبان سے رابطے شروع کر دیئے تھے، اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف  کو مذاکرات کی کامیابی تک سیز فائر کی اپیل کی تھی۔

مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے انہیں طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی جس پر انہوں نے طالبان رہنماﺅں سے رابطہ کیا اور 2 دن بعد ہی مثبت جواب بھی مل گیا اور 2 جنوری کو اس سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کر دیا اور انتظار کرنے لگا کہ حکمت عملی سے آگاہ کیا جائے لیکن بار بار رابطوں کے باوجود وزیراعظم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپیل کی تھی کہ فوجی آپریشن اور طاقت آزمائی سے گریز کریں لیکن کل اچانک شمالی وزیرستان، تیراہ اور قبائلی علاقوں پر بمباری شروع کر دی گئی۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وہ ان حالات میں خود کو الگ تھلگ کرنا چاہتا ہوں۔

واضح رہے کہ ملکی اور غیر ملکی حلقوں میں مولانا سمیع الحق کو کالعدم طالبان کے باپ کہا جاتا ہے، سمیع الحق نے بھی متعدد بار اپنی گفت گو میں کالعدم طالبان کو اپنے بیٹوں سے تشبی دی ہے، کالعدم طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے مولانا سمیع الحق کافی اثرو رسوخ رکھتے ہیں، اور ان کے وسیع تعلقات ہیں۔ مولانا نے دو ہفتے قبل وزیراعظم سے ملاقات میں کالعدم طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔ سماء

disabled

Benazir

season

uganda

quality

Tabool ads will show in this div