کالمز / بلاگ

پشاور ضمنی انتخاب: کیا تحریک انصاف کی شکست کی وجہ موروثیت بنی؟

جیتنے والے امیدوار تحریک انصاف کے کارکن تھے
[caption id="attachment_1315082" align="aligncenter" width="680"] عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان فتح یاب امیدوار صلاح الدین سے گلے مل رہے ہیں[/caption]

عام انتخابات میں کلین سوئپ اور ضمنی انتخابات میں پے درپے شکست کے بعد تحریک انصاف کو کافی پسپائی کا سامنا ہے۔ ناقدین ایک طرف ان شکستوں کو نئی حکومت کی ’عوام دشمن‘ پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف عام انتخابات کے نتائج پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں اس بات کو لیکر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

ضمنی انتخابات کے پہلے مرحلے میں لاہور سے شکست کھانے والے تحریک انصاف کے امیدوار نے اپنی شکست کو ’مہنگائی‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

سب سے زیادہ ’تشویش‘ تحریک انصاف کو دوسرے مرحلے میں پشاور سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 71 سے شکست پر  ہورہی ہے۔ جس نے ایک طرف عوامی نیشنل پارٹی میں ’نئی روح‘ پھونک دی  تو دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

پشاور میں شکست کی وجوہات کیا تھیں

پشاور کے حلقہ پی کے 71 پر عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار صلاح الدین نے11 ہزار 416 جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار ذوالفقار خان نے 10دس ہزار4ووٹ حاصل کیے۔ آزاد امیدوار دلدار خان 5 ہزار 5409 ووٹ لیکر تیسر نمبر پر رہے۔

تحریک انصاف کے ہارنے والے امیدوار ذوالفقار خان گورنر شاہ فرمان کے بھائی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار صلاح الدین تحریک انصاف کے سرگرم کارکن اور حلقے میں مضبوط ووٹ بینک رکھتے تھے۔ 25 جولائی کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے انہیں  نظر انداز کرکے شاہ فرمان کو دو حلقوں پی کے 70 اور 71 کے ٹکٹ دے دیے۔

 

یہ بھی پڑھیں: موروثی سیاست میں پی ٹی آئی سب سے آگے

صلاح الدین نے کڑوا گھونٹ پی کر شاہ فرمان کو سپورٹ کیا لیکن جب شاہ فرمان نے گورنر بن جانے کے بعد نشست خالی تو کارکنان اور صلاح الدین نے ایک بار پھر ٹکٹ کی امید باندھ لی مگر تحریک انصاف کی قیادت نے ٹکٹ شاہ فرمان کے بھائی کو جاری کردیا جس پر صلاح الدین نے تحریک انصاف چھوڑ کر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ اے این پی نے ووٹ بینک کو دیکھ کر ان کوٹکٹ بھی دے دیا۔

سنیئر صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق ذوالفقار خان کی شکست اقرباء پروری کی شکست ہے۔ صلاح الدین کل تک تحریک کے سرگرم کارکن تھےلیکن  ٹکٹ نہ ملنے پر احتجاجا پارٹی چھوڑی۔ تحریک انصاف کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ کارکنان نے موروثیت کو مسترد کردیا ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے نوشہرہ کے ضمنی انتخابات میں دو ٹکٹ پرویز خٹک کے بھائی اور بیٹے کو جاری کیے۔ صوابی میں اسد قیصر کے بھائی، ڈی آئی خان میں گنڈہ پور فیملی اور پشاور میں شاہ فرمان کے بھائی کو ٹکٹ دیا۔

 

یہ بھی پڑھیں: ایک خاندان سے 4ایم این اے، 2 ناظمین، 2 امیدوار، نئے پاکستان کا نیا ریکارڈ

 

تحریک انصاف کے امیدوار کو 1412 ووٹوں سے شکست ہوئی جبکہ آزاد امیدوار  دلدار خان نے 5409 حاصل کیے۔ دلدار خان بھی تحریک انصاف کے کارکن ہیں اور موروثیت کے خلاف بطور احتجاج آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے تھے۔

پی ٹی آئی کے لیے ایک حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ صلاح الدین کو تمام اپوزیشن جماعتوں نے سپورٹ کیا جبکہ ذوالفقار خان کو اپنی پارٹی میں بھی مخالفت کا سامنا رہا، اس کے باجود ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست اس بات کی غماز ہے کہ تحریک انصاف بدستور ’مقبول‘ جماعت ہے۔

تحریک انصاف اگر موروثیت کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر کارکنان کی خواہش کے مطابق ٹکٹ جاری کرتی تو صرف دلدار خان کے ووٹ سے ہی4 ہزار کی لیڈ سے جیت اس کا مقدر ہوتی۔

PTI

BY ELECTION

Tabool ads will show in this div