کراچی:ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی نے پھرسے میدان مارلیا

کراچي ميں اين اے 247 اور پي ايس 111 کے ضمني انتخاب ميں پي ٹي آئي نے ميدان مارليا۔ ايم کيوايم نے غيرحتمي غيرسرکاري نتائج پر اعتراضات اٹھاديے۔

کراچي ميں ضمني اليکشن کا معرکہ ايک بارپھر پي ٹي آئي کے نام رہا۔ اين اے دوسوسينتاليس اورپي ايس ايک سو گيارہ کےتمام پولنگ اسٹيشنز کے غيرحتمي وغيرسرکاري نتائج موصول ہوگئے جس کے مطابق کراچي ميں صدر مملکت عارف علوی ور گورنر سندھ عمران اسماعیل کي چھوڑی ہوئي نشستيں پي ٹي آئي نے دوبارہ جيت ليں۔

اين اے 247کے تمام 240 پولنگ اسٹيشنزکے نتائج کے بعد پی ٹی آئی کے آفتاب صدیقی 32 ہزار 464 ووٹ لے کر کامياب ہوئے جبکہ ایم کیو ایم کے صادق افتخار 14 ہزار 114 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پي ايس 111کے80 پولنگ اسٹيشنزکےغيرحتمي غيرسرکاري نتائج کے مطابق پي ٹي آئي امیدوارشہزاد قریشی11 ہزار658 ووٹ ليکرکامياب قرار پائے جبکہ پیپلز پارٹی کے فیاض پیرزادہ نے5ہزار780 ووٹ حاصل کئے۔ایم کیو ایم کے جہانزيب مغل نے2ہزار146ووٹ حاصل کیے۔

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 247 ڈیفنس، کلفٹن، اولڈ سٹی ایریا اور پنجاب کالونی سمیت مختلف علاقوں پر مشتمل ہے، جب کہ صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی ایس 111 بھی اسی حلقے کی حدود میں محدود ہے۔

قومی اسمبلی کی نشست پر 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا، پی ٹی آئی کی جانب سے آفتاب حسین صدیقی، پیپلز پارٹی کی جانب سے معروف اداکار قیصر نظامانی، پاکستان سنی تحریک کے علی نواب اور ایم کیو ایم کی جانب سے صادق افتخار کو میدان میں اتارا گیا ۔ اسی نشست کیلئے پی ایس پی کی جانب سے ڈپٹی مئیرکراچی ارشد وہرہ امیدوار تھے۔

صوبائی اسمبلی سندھ کی نشست پی ایس 111 کیلئے 15 امیدوار میدان میں اترے ۔ پی ٹی آئی کے شہزاد قریشی، پیپلزپارٹی کے فیاض پیرزادہ اورایم کیوایم کے جہانزیب مغل میں مقابلہ ہوا۔

دونوں حلقوں میں سات لاکھ بائیس ہزار سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ تھے، جب کہ ضمنی انتخاب کیلئے 320 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ۔

دوسری جانب ايم کيوايم نے غيرحتمي غيرسرکاري پر اعتراضات اٹھاديے ہیں۔ کنورنويد جميل نے کہا کہ پچيس جولائي سے پہلے ہي کہہ ديا گيا تھا کہ ايم کيوايم چار سے زائدنشستيں نہيں لے گي جبکہ خواجہ اظہارالحسن نے کہا آٹھ بجے تک ہم جيت رہے تھےتو ساڑھے آٹھ بجے کيسے ہارگئے۔

PTI

NA 247

PS-111

by election 2018

Tabool ads will show in this div