تھرپارکر میں قحط سالی سے 2 ماہ میں 600 مور ہلاک

تھرپارکر کے قدرتی حسن کی علامت مور اور دوسرے پرندے بھی قحط سالی کا شکار بننے لگے، مرتے پرندوں کو بچانے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

جہاں انسان کے لئے اناج نہیں وہیں بے زبان پرندے بھی بھوک اور پانی کو  ترسنے لگے ۔ نگرپارکر، اسلام کوٹ اور ڈیپلو میں دو ماہ کے دوران چھ سو سے زائد مور مرچکے ہیں۔

تھر کا رہائشی عبدالغنی کا کہنا ہے کہ تھر میں جو کنویں ہوتے تھے وہ بھی سوکھ گئے ہیں جس کے باعث پانی کی قلت ہے ۔ اس لیے مور مر رہے ہیں ۔

رانی کھیت کی بیماری سے مرنے والے موروں کو کیسے بچایا جائے، اس حوالے سے منتخب نمائندے بھی پریشان ہیں ۔ سینیٹر کرشنا کہتی ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کردی ہے، تالاب بنائے جارہے ہیں جس کے پانی میں ویکسینز شامل کریں گے۔

PEACOCK

rani khet

Tabool ads will show in this div