پاکستان میں خلع ،طلاق اوربچوں کی حوالگی کے مقدمات ميں کئی گناہ اضافہ

Oct 20, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/10/SHC-Women-Cases-1800-KHI-PKG-20-10.mp4"][/video]

گھريلو تنازعات کے باعث عليحدگي اور بچوں کي حوالگي کے مقدمات ميں بے پناہ اضافہ ہوگيا، صرف کراچي ميں آٹھ ماہ کے دوران نو ہزارمقدمات درج ہوئے سندہ ہائيکورٹ نے نوٹس لے ليا وفاقي اور صوبائي حکومت کو نوٹس جاري کرديا۔

سندھ ہائيکورٹ نے گھريلو تنازعات سنگين واقعات کا نوٹس لے ليا، صرف کراچي ميں 8ماہ کےدوران خلع،طلاق اوربچےحوالگي کے 9ہزار کيسز دائرہوئے، قانوني ماہرين کہتےہيں خواتين کے تحفظ کيلئے قانوني سازي ہوني چاہيئے۔

سندھ ہائيکورٹ نے اٹارني جنرل، ايڈوکيٹ جنرل اور چيف سيکريٹري سندھ کو نوٹس بھي جاري کرديا، عدالت نے ريمارکس ديئےشادی شدہ خواتین کے ساتھ ايسا سلوک افسوسناک ہے، بیوی سے علیحدگی اختیار کرنے سے نان نفقہ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی قانون سازي کي ضرورت ہے۔

عدالت نے درخواست گزار خاتون کے شوہر کو ماہانا دس ہزار روپے ادا کرنے کا بھي حکم ديا۔

علیحدگی کے سماجی اور شرعی پہلو

علیحدگی کے بڑھتے واقعات تشویشناک ہیں عورت کی زندگی میں ایک کے بعد دوسرا امتحان آجاتا ہے ، سماجی رہنما عالیہ صارم کہتی ہیں شوہر سے علیحدگی کے بعد عورت کو سَر چھپانے کے لیے دھکے کھانا پڑتے ہیں ۔

عاليہ صارم کا کہنا تھا کہ جس رات بیوی گھر چھوڑے گی اس رات وہ کس کی چھت کے نیچے رہے گی ماں باپ مر چکے، بھابھی گھر میں نہ رہنے دے تو اس کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

معروف عالم دین مفتی زبیر کا کہنا تھا کہ طلاق یا خلا کے بغیر علیحدگی پر شوہر خرچے کا ذمہ دار نہیں ہوگا ۔

۔۔ مفتي زبير نے بتایا کہ اگر طلاق اور خلا کی وجہ سے علیحدگی ہوئی تو عدت کے دوران شوہر پر نان نفقہ واجب ہے، اگر علیحدگی طلاق یا خلا کی وجہ سے نہیں ہوئی، چھوڑ دیا بغیر اجازت کے بیوی چلی گئی تو ایسی صورت میں فتویٰ ہے کہ شوہر پر خرچہ لازم نہیں۔

معاشرے میں جہاں علیحدگی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، وہیں خواتین کو نان نفقہ کے لیے کئی آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

women

separate

Tabool ads will show in this div