کھلونا بم، خیبرپختونخوا کے بچے نفرت کی قیمت ادا کرنے پر مجبور

کھلونا بم کا نام سن کر ہر شخص کا ذہن صرف کھیل کود اور بچوں کے کھلونوں کی طرف جاتا ہے تاہم کچھ انسانیت کے دشمن ایسے بھی ہیں جو انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں، جس کی قیمت خیبرپختونخوا کے بچے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

لکی مروت کا عبداللہ 15 مئی 2015ء کو اسکول سے چھٹی کے بعد گھر گیا اور اپنا بستہ وہاں رکھ کر دریائے کرم کے کنارے دوستوں کے ساتھ کھیلنے پہنچ گیا، جہاں اسے تھرماس کے ڈھکن کی شکل کا ایک کھلونا ملا، کھیل ہی کھیل میں وہ کھلونا دھماکے سے پھٹ گیا اور نو عمر طالبعلم کلائیوں تک اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہوگیا، دیگر بچے دھماکے سے ڈر کر بھاگ گئے، تاہم عبداللہ زخمی حالت میں وہیں پڑا رہا۔

نوعمر طالبعلم عبداللہ کو زخمی حالت میں پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لے جایا گیا تاہم بعد ازاں پشاور منتقل کردیا گیا، جہاں وہ 2 ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد واپس گھر بھیج دیا گیا مگر اب وہ دونوں ہاتھوں سے محروم تھا۔

عبداللہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، اس کے والد مستری کا کام کرتے ہیں، ایک بھائی پاک فوج میں سپاہی جبکہ دوسرا ملازمت پیشہ ہے۔

لکی مروت میں چند سالوں کے دوران بچوں سمیت متعدد افراد ایسے ہی کھلونا بموں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی رکن قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے کوئی مدد نہیں ملی۔

عبداللہ کے والد میر بادشاہ کہتے ہیں کہ چھوٹے بیٹے کے کھلونا بم کا نشانہ بننے کے بعد مجھے ایم پی اے، ایم این اے اور مقامی سرکاری حکام سے مدد کی توقع تھی تاہم کوئی بھی میرے گھر نہیں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں مقامی رکن صوبائی اسمبلی منور خان ایڈووکیٹ کے پاس گیا تاہم وہاں سے بھی عبداللہ کے علاج کیلئے کوئی مدد نہ ملی، ہمیں رقم کی ضرورت نہیں، ہم اپنے بیٹے کیلئے رشتہ تلاش کررہے ہیں۔

میر بادشاہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے ذاتی دشمنی کے نتیجے میں اپنے ہاتھ نہیں گنوائے بلکہ وہ دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے علاقے کے اراکین اسمبلی سے عبداللہ کیلئے سرکاری ملازمت فراہم کرنے کی اپیل کی تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز سے گزار سکے۔

پاک فوج سے تعلق رکھنے والے عبداللہ کے بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ میں قوم کی حفاظت کیلئے ہر محاذ پر دہشت گردی سے لڑ رہا ہوں لیکن یہاں میرا اپنا بھائی دہشت گردی کا نشانہ بن گیا، میرا بھائی تعلیم یافتہ ہے، اپنے ہاتھوں گنوانے کے باوجود وہ (روزمرہ کاموں سمیت) سب کچھ کر سکتا ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان سے مطالبہ کیا کہ عبداللہ کو محکمہ صحت یا محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازمت دی جائے۔

سترہ سالہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کپڑے خود بدل سکتا ہے، اسمارٹ فون استعمال کرتا ہے اور کھانا بھی خود ہی کھاتا ہے، اس نے نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں اپنے معاون طالب علم کی مدد سے کامیابی حاصل کی ہے، ساتھ ہی نصف قرآن بھی حفظ کرچکا ہے، دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ دوران علاج مجھے کسی نے بتایا کہ جب علاقہ ایم این اے اور ایم پی اے کو پتہ چلے گا تو وہ مجھ سے ملنے اور مدد کرنے ضرور آئیں گے۔ میں اپنے بھائی کی طرح ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا تاہم دہشت گردی نے میرے دونوں ہاتھوں چھین لئے، کسی بڑے نقصان سے بچانے کیلئے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے شکار دیگر افراد اور متاثرین کو جس طرح مدد فراہم کی گئی میں بھی اس کا حقدار ہوں۔

LAKKI MARWAT

Toy Bomb

#Pakistan #Terrorists

Tabool ads will show in this div