کالمز / بلاگ

پیاسی زمین اور عالم پناہ

سال1857میں غدر کے بعد برصغیر کی دنیا ہی بدل گئی تھی۔ سونے کی چڑیا کے پر نوچ نوچ کر انگلستان کی ملکہ کے تاج میں جڑنے لگے۔ فاقہ کشی کا شکار اہلِ ہند اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر مصالحوں سے بھرے بحری جہاز بادشاہ سلامت کے دیس کے مکینوں کی لذت بڑھانے کے لئے بھیجنے لگے۔ غدر کے 90 سال بعد برصغیر کا جہاں نقشہ تبدیل ہوا وہیں یہاں تہذیب بھی شکست و ریخت کا شکار ہوگئی۔ گورنر جنرل اور وائسرائے کے سامان تعیش کے لئے ہند کے پیرو جواں خون پسینے بہانے لگے۔کئی کئی ایکڑ پر جنگلات اگائے گئے۔ گورنر ہاؤسز تعمیر کئے گئے جہاں سامان تعیش کی فراوانی تھی۔ الغرض گوری سرکار نے یہی روایات بھورے انگریزوں کو منتقل کی۔ انگریز حکومت سے وفاداری پر جاگیریں عنایت کی گئیں۔ ان جاگیرداروں کو بھی اپنی روایات کا امین بنایا ۔ برصغیر کے عوام اسی طرح غربت کی چکی میں پستے رہے۔ کسان فصلیں اگاتا گیا اور اس کا خراج اس کی نسلیں بھگتی رہیں۔ وقت کا گھوڑا انقلاب کا چابک کھاتے کھاتے تیزی سے اپنی منزل کی جانب بڑھتا چلا گیا اور پھر صاحب بہادر اپنی گوری چمڑے لئے یہاں سے رخصت ہوگئے۔ بحیرہ عرب سے خلہج بنگال تک صرف یہاں کے لوگوں کا طوطی بولنے لگا۔ صاحب بہادر کے رخصت ہونے کے باوجود خطے کے لوگوں کی تقدیر  نہ بدلی ۔ اس دیس پر وہی لوگ قابض رہے جو گوری سرکار کے خلعت نشین تھے۔

برصغیر پاک و ہند بشمول بنگلہ دیش میں حکمرانی کی طرز انگریزوں کے جانے کے بعد بھی نہیں بدلی۔ وہیں وی وی آئی پی پروٹوکولز، افسر شاہی اور حکمرانوں کی خوب دلجمعی کے ساتھ عیاشیاں معمول بنتی گئیں ۔ اب اگر کوئی اس کلچر کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے یا توہٹا دیا جاتا ہے ، یا وہ خود ہی اس رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ تحریک انصاف تبدیلی اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا نعرہ لے کر اٹھی اور خود ہی اس نعرے کی نفی کردی۔نئے پاکستان میں گورنر ہاؤسز عوام کیلئے کھول دئیے گئے لیکن اس کرسی پر جلوہ افروز افراد کا وطیرہ نہ بدل سکا۔ گذشتہ دنوں ہی گورنر  سندھ  عمران اسماعیل کا قافلہ 52 گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ کہیں ہٹو بچو کی صدائیں تھیں تو کہیں عالم پناہ کی حفاظت پر مامور گاڑیوں کے سائرن، اس سارے معاملے میں  کسی کو بھوک سے نڈھال تھر کے معصوم بچوں کی آوازیں سنائی نہیں دیں۔ سنگ مرمر پر چلنے والوں کا ریڈ کارپیٹ استقبال ہوا۔شاید عالی مرتبت کے طبع نازک کو تھر کی ریت  نقصان دہ تھی۔ شاید اقتدار کے نشے میں مدہوش بادشاہ سلامت کی ناک مٹی کی خوشبو سے الرجک ہوں گے۔ میں وی وی آئی بھی کلچر کا مخالف نہیں ہوں ، ذرا خود تو دیکھیں کتنے ہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اتنی بڑی بڑی گاڑیاں زندگی میں پہلی بار دیکھی ہوں گی۔ کئی ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے پہلی دفعہ دیکھا ہوگا کہ ریت پر بھی قالین بچھائی جا سکتی ہے۔ مرغن کھانوں کی خوشبو جب  تھر کی فضا میں پھیلی ہوگی تو مقامی افراد نے چشم تصور میں بھنے ہوا مرغ ، بھنی ہوئی رانوں کی لذت محسوس کی ہوگی۔ اب اعتراض کس بات کا جو ساری زندگی باسی روٹی پر گزارہ کرتے ہیں انہیں مرغن کھانوں کی خوشبو نصیب ہوئی تو اس کی وجہ بھی قبلہ گورنر صاحب ہی تو ہیں۔ جنہیں گھر میں بچھانے کو چٹائی نہیں انہوں نے تو ریت پر پڑی قالین دیکھی ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے نعرے کے برخلاف ان کی فوج میں شامل سپاہیوں کا طور طریقہ جہاں پاکستان کے عوام کیلئے تکلیف دہ ہے وہیں تحریک انصاف کا کارکن بھی مایوسی کا شکار ہے جس کا وہ اظہار کھلے دل سے کرتا ہے۔ میرے کپتان ، آپ قوم کے لئے امید بن کر آئیں ہیں۔ خدارا مایوسی کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی اس قوم کو دکھی نہ کیجئے گا۔ ساری قوم تسلیم کرتی ہے کہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی ، لیکن سب یہ بھی مانتے ہیں کہ تبدیلی کے میچ میں موجود کھلاڑی خود ہی اپنے کپتان کی مایوسی کا سبب بن رہے ہیں۔ میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ گورنر سندھ کو یا تبدیلی کے مخالف کھلاڑیوں کو عہدوں سے ہٹائیں ۔ میرا یہ بھی مطالبہ نہیں کہ ہتھیلی پر سرسوں اگا کر دکھائیں ۔ میں تو بس اتنا چاہوں گا کہ جو فصل کاشت کریں،اس میں کھاد اور پانی بروقت دیں۔ فصل کو حشرات سے بچانے کے لئے بس ایک بارکیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ ضرور کر لیں۔

PTI government

governor sindh protocol

Tabool ads will show in this div