دیامر: مدارس فیسٹیول طلباء کو گمراہ کرنے کی سازش ہے، مذہبی رہنما

فیسٹیول میں کھیلوں کے مختلف مقابلے منعقد ہوئے
[caption id="attachment_1313342" align="aligncenter" width="640"] چیف سیکریٹری گلگت بلتستان طلباء میں انعامات تقسیم کر رہے ہیں[/caption]

جامعہ مسجد چلاس کے خطیب مولانا مزمل شاہ نے 'مدارس فیسٹیول' کو ’گمراہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی ’غیر اسلامی سرگرمیاں‘ علماء اور دینی مدارس کے طلبہ کو ’سیدھی راہ‘ سے بھٹکانے کی سازش ہے۔

چیف سیکریٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ کی جانب سے چلاس میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے فیسٹیول کا انعقاد کیا جس میں کھیلوں کی مختلف سرگرمیاں شامل تھیں۔ فیسٹیول کے اختتام پر چیف سیکریٹری نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کیے۔

تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ دینی مدارس میں گوہر نایاب پوشیدہ ہیں۔ ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ علم دشمن عناصر کی جانب سے ایک سازش کے تحت دیامر کو بدنام کیا جارہا ہے لیکن امن پسند اور علم دوست علاقہ عمائدین کے تعاؤن سے ایسی سازشیں ناکام بنائیں گے۔

چلاس شہر ضلع دیامر کا ہیڈکوارٹر ہے۔ دیامر طویل عرصہ سے شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے۔ 2008 سے شدت پسند  وقفے وقفے سے لڑکیوں کے اسکولز جلاتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہاں فرقہ وارانہ قتل و غارت کے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں۔

رواں سال 2 اگست کی رات نامعلوم شدت پسندوں نے دیامرکے مختلف علاقوں میں لڑکیوں کے 12 اسکولوں کو نذر آتش کیا جس کے بعد پولیس نے آپریشن کرکے درجنوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جبکہ علاقہ مکین اور طالب علم پہلی مرتبہ شدت پسندوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

 

یہ بھی پڑھیں: گلگت میں لڑکیوں کے اسکول جلانے کے واقعات کے پیچھے کون ہیں؟

 

دوسری جانب جامعہ مسجد چلاس کے خطیب مولانا مزمل شاہ نے خطبہ جمعہ میں کہا ہے کہ اسپورٹس فیسٹیول کے نام پر دینی مدارس کے طلبہ اوراساتذہ کو ’گمراہ‘ کیا جارہا ہے۔ چیف سیکریٹری کو دینی مدارس کے طلبہ کی اتنی فکر ہے تو ان کے لیے وظیفہ مقرر کرے۔

مولانا مزمل شاہ نے ممبر پر بیٹھ کر کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں شریعت میں جائز نہیں ہیں۔ علماء اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

تین اپریل  2012 کو چلاس میں شدت پسندوں نے بسیں روک کر مسافروں کو گاڑی سے اتارا اور ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر باری باری قتل کیا۔ اس دلخراش واقعہ میں تقریبا 16 افراد کو موٹ کے اتارا گیا۔ شدت پسندوں نے مسافروں پر نہ صرف فائرنگ کی بلکہ خنجر اور بھاری پتھروں کے وار کیے۔

[caption id="attachment_1313347" align="aligncenter" width="640"] مولانا مزمل شاہ گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ سے ملاقات کر رہے ہیں[/caption]

اس سانحہ کی ایف آئی آر کے مطابق مولانا مزمل شاہ واقعہ کے ماسٹر مائنڈ تھے اور موقع پر موجود شدت پسندوں کی قیادت کر رہے تھے جبکہ دیگر ملزمان میں مولانا یاسر، مولانا رضوان، قاری عبدالقیوم اور مولانا محمود الحسن شامل تھے۔

پانچوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرکے دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور عوامی جذبات مشتعل کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تاہم بعد ازاں 13 دسمبر 2013 کو گلگت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پانچوں ملزمان کو رہا کردیا۔

Tabool ads will show in this div