زمانہ قدیم میں وقت بتانے والی منفرد گھڑی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/10/Sarkub-Suraj-Ghari-Isb-Pkg-17-10.mp4"][/video]

وقت کی قدر و قيمت ہر دور ميں اہم رہی ہے۔ زمانہ قدیم میں جب گھڑیاں ایجاد نہيں ہوئی تھیں تو لوگ وقت معلوم کیسے معلوم کرتے تھے؟  ٹیکسلا کے آثار قدیمہ سرکپ میں اس دور میں سُورج گھڑی لوگوں کی دلچسپی کا سامان رکھتی ہے۔

زمانہ قدیم کا جدید شہر سرکپ کی  آبادی 25 ہزارلوگوں پر مشتمل تھی ۔ ان کے لئے سورج بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ صبح ، دوپہر، شام اور رات کے اوقات سُورج انہیں  گھڑی کے ذریعے بتاتا تھا ۔ قدیم شہرکی اس خاموش گھڑی کو سُورج کی شکل پرتعمیر کیا گیا ۔ اس کے چار حصے تکونوں ميں تقسيم ہيں۔

کئي زمانوں کي تاريخ چھپائے اس گھڑي کي سيڑھیاں آج بھی تحقیق دانوں کوقديم سائنس کے مشاہدے کيلئے بُلارہي ہيں۔ سرکپ متعدد تہذیبوں کا امین ہے، کئی ثقافتیں آج بھي اس شہر کے نیچے دبی ہیں، سورج کي پجاري بھي انہی ثقافتوں میں سے ایک ہے۔

یہ سُورج گھڑی اس وقت کے لوگوں کی ایک بہترین ایجاد تھی جو اس چیز کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان ہر دور میں لازوال رہا ہے۔

taxila

Tabool ads will show in this div