جمال خاشقجی کے مبینہ قاتلوں کا سعودی ولی عہد سے تعلق ہوسکتا ہے، نیویارک ٹائمز

ترک حکام کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے گمشدگی میں ملوث مشتبہ افراد میں سے ایک شخص کے تعلقات سعودی شہزادے محمد بن سلمان سے ہوسکتے ہیں ۔

امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہےکہ اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ ترک حکام نے جن 15 مشتبہ افراد کی شناخت کی ہے ان میں سے 9 کا تعلق سعودی سیکورٹی سروسز، فوج اور دیگر حکومتی اداروں سے ہے۔

مشتبہ افراد میں ایک کی شناخت مہر عبدالعزیز متریب کے نام سے ہوئی ہے جسے پیرس اور میڈرڈ میں سعودی ولی عہد کے ساتھ ہوائی جہاز سے اترتے دیکھا گیا تھا جبکہ ہیوسٹن، بوسٹن، اور اقوام متحدہ میں اس سال ان کے دوروں کے دوران بھی وہ شخص محمد بن سلمان کے ساتھ دیکھا گیا تھا ۔

ترک حکام نے مہر عبدالعزیز متریب کی استنبول ائیرپورٹ پر لی گئی ایک تصویر جاری کی تھی اور کہا تھا کہ وہ سعودی ایجنٹوں کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے جمال خاشقجی کو مبینہ طور پر قتل کیا۔

واضح رہے واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو شادی کے دستاویزات لینے کے لیے استنبول میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے پھر واپس نہیں نکلے۔

غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق جمال خاشقجی کو سعودی قونصلیٹ کے اندر قتل کیا گیا اور ان کی لاش کے ٹکڑے کردئیے گئے۔

سعودی حکومت اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صحافی خاشقجی سفارتخانے سے نکل گئے تھے اور سعودی حکومت انہیں تلاش کرنے اور کیس کی تحقیقات میں ترک حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہے۔

دی نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان کے نمائندوں نے سعودی حکام سے اس خبر کے حوالے سے مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

saudi prince

suspect

Khashoggi

Tabool ads will show in this div