گلگت: شدید برفباری کے باعث 20 کان کن دو دن سے لاپتہ

حکومتی سطح پر ابھی تک خاطر خواہ امدادی آپریشن شروع نہیں کیا جاسکا۔

ہزارہ ڈویژن اور دیامر کے درمیان  واقع بہسل نالے کی اوپری چوٹی پر شدید برف باری کے بعد قیمتی پتھروں کی کان میں کام کرنے والے  15 سے 20  مزدور دو دن سے لاپتہ ہیں  جن کی تلاش کے لیے حکومت کی جانب سے ابھی تک خاطر خواہ امدادی آپریشن شروع نہیں کیا جاسکا۔

 ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی علاقے جلکھڈ اور دیامر کے سیاحتی علاقے گھٹی داس کے درمیان واقع بہسل نالے کی چوٹی پر قیمتی پتھروں کی کانیں ہیں جہاں ایک عرصے سے لوگ لیز پر یہ کام کرتے ہیں۔ اس علاقے میں اکثر موسم خراب رہتا ہے۔ اس لئے کئی بار کان میں کام کرنے والے مزدور پھنس جاتے ہیں۔

 پچھلے سال بھی اچانک موسم کی خرابی کی وجہ سے اس طرح کا واقعہ  پیش آیا تھا جس میں ایک کان کن جاں بحق ہوگیا تھا۔ اس بار بھی اچانک موسم کی خرابی کی وجہ سے چلاس سے تعلق رکھنے والے 15 سے 20 مزدورکان میں پھنس گئے ہیں جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ناراں اور بوڑاوئی کے درمیانی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں،کمیونیکیشن ذرائع کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھنسے مزدوروں سے رابطہ ممکن نہیں ہے اور ناران بازار سے آگے شدید برف باری کی وجہ سے مدد کے لئے جانا ممکن نہیں ہے۔ اس خطرناک صورت حال سے نمٹنے کا واحد حل ہیلی کاپٹر کے زریعے امدادی آپریشن ہے۔

اس سلسلے میں خیبرپختون خوا اور گلگت بلتستان حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر کوئی مظاہرہ کرتے ہیں تو شائد 12 آدمیوں کی قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت کے پاس ہیلی کاپٹرز نہیں ہیں ۔ ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پھسنے ہوئے لوگوں میں 12 افراد مزدور ہیں جبکہ دیگر اپنی مویشیوں کے ساتھ پہاڑوں میں قیام کر رہے تھے۔ پھنسے  ہوئے افراد کی تلاش کے لیے ضلعی حکومت تمام تر اقدامات کر رہی ہے۔ جہاں تک گاڑی یا پیدل جانا ممکن تھا مقامی انتظامیہ وہاں تک پہنچ گئی ہے تاہم مزید آگے جانا ممکن نہیں ہے،فیض اللہ فراق نے کہا کہ مقامی آبادی اپنی مدد آپ کی تحت جدوجہد میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں مزدور پھنسے ہیں وہ علاقہ خیبر پختونخوا کی حدود میں آتا ہے۔ اس سلسلے میں کے پی حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے سنیئر وزیر عاطف خان کے پرسنل سیکریٹری گل نواز نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ و دیگر حکام کو فوری امدادی آپریشن کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں جبکہ پراونشل ڈیزاسٹر منجمنٹ کو بھی مطلع کیا گیا ہے۔

پراونشل ڈیزاسٹر منجمنٹ کے ڈائریکٹر آپریشن شکیل خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہمارے پاس بھی ہیلی کاپٹر نہیں ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ سے درخواست کریں گے۔

KPK

SNOWFALL

Mine

Mine accidents

Tabool ads will show in this div