ٹکوں کےعوض سرکاری اراضی لیزپردی گئی،حکومت کی کارکردگی دیکھناچاہتاہوں،چیف جسٹس

سی ڈی اے نے بنی گالہ میں سرکاری اراضی کے چار لیزمنسوخ کردیئے۔ سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو ایک بار پھر لیز ہولڈرکو وزٹ کرنے کا حکم دیا ۔ تجاوزات کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹکوں کے عوض قیمتی سرکاری اراضی لیز پردی گئی، حکومت کی کارکردگی دیکھنا چاہتا ہوں۔عدالت نے 10 روز میں ریگولرائزیشن کا طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا اورریمارکس دیئے کہ سب سے پہلے عمران خان کا گھر ریگولرائز ہوگا۔ جرمانہ دیکر ہی وزیراعظم دوسروں کو کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوںگے۔

سپریم کورٹ میں بنی گالا تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کوغیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ راول ڈیم کے قریب 4 لیزمنسوخ کرنے کی سفارش کی گئی جبکہ صرف ایک لیزکو درست قراردیا گیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم جنگی بنیادوں پر مسئلہ حل کریں۔ سب سے پہلے عمران خان کا گھر ریگولرائز ہو گا، وہ جرمانہ ادا کریں، بعد میں باقی لوگوں کو تعمیرات ریگولرائز کرانے کا کہا جائے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ کیا لیزمنسوخ کرنے کے نوٹس دئیے گیے ہیں؟ اس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ نوٹس پہلے جا چکے تھے،متعلقہ کمپنیوں کواپنا سامان اٹھانے کی مہلت دی جاتی ہے۔

سماعت کے دوران لیز ہولڈر نے عدالت سے شرائط پورے کرنے کیلئے مہلت کی استدعا کی اورکہا کہ ساری جمع پونجی کاروبار پر لگا دی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی شرائط پوری کررہا ہے تو چلنے دیں،عدالت کا مقصد کسی کا کاروبار خراب کرنا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ساری لیزسفارش اوراقرباء پروری پردی گئی، لیز کے نام پر سرکاری اراضی کی بندر بانٹ کی گئی ، اب حکومت کی کارکردگی دیکھنا چاہتا ہوں۔

عدالت نے چیرمین سی ڈی اے کو لیز اراضی کا دوبارہ وزٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لیز ہولڈرز کے ریٹس کا دوبارہ تعین کیا جائے، کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

CHIEF JUSTICE

BANI GALA

operation against encroachments

Tabool ads will show in this div