ملک پر واجب الادا قرض 30 ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا، شہزاد اکبر

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ پانامہ کیسز میں دیگر ناموں کیخلاف کاروائی کریں گے، ماضی کی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوا، ملک پر اس وقت قرض 30 ہزار ارب سے بڑھ گیا ۔

وزیر اعظم کے معاونین شہزاد اکبر اور افتخار درانی نے آج اتوار کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتانا چاہتے ہیں معاشی صورتحال کیا ہے ، ملتان میٹرو میں 30 کروڑ روپے منی لانڈرنگ ہوئی مگر کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا ۔

انہوں نے کہا کہ فالودے والے کے اکاونٹ سے 2 ارب سے زائد رقم نکل آئی، اس کے نام گولڈ کی کمپنی بنائی گئی، دورسری طرف رکشے والے کے اکاونٹ سے کروڑوں روپے نکل آئے ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک تھے، مگر سیاسی مفادات کام نہیں کرنے دے رہے تھے ، ماضی کی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ منی لانڈرنگ احتساب کے عمل پر کام جاری ہے، نو سے دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے گیس سیکٹر اور یوٹیلٹی سٹورز کے نقصانات ایک ٹریلین سے بڑھ گئے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ بلیک اکانومی معیشت کو تباہ کر رہی ہے، لیکن اب اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کام کر رہے ہیں

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اگلے ہفتے برطانیہ جا رہا ہوں برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ کچھ پینڈنگ کیسز پر معلومات شیئر کرونگا۔

ACCOUNTABILITY

Mirza Shahzad Akbar

Tabool ads will show in this div