بالی ووڈ ہدایتکار وکاس بہل اور گلوکار کیلاش کھیر پر بھی ہراسانی کا الزام لگ گیا

بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ کے بعدکنگنا رناوت میدان میں آئیں اور انہوں نے بھی اپنی فلم کوئن کے ڈائریکٹر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تاہم اب بھارتی میڈیا کی ایک خاتون صحافی نے انتہائی شریف سمجھے جانے والے گلوکار کیلاش کھیر کے کردار پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی خاتون صحافی نتاشا ہمرجانی نے ” می ٹو “ میں انٹری ماری اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ 2006 کی بات ہے جب میں نئی نئی صحافت میں آئی اور ہندوستان ٹائمز میں فوٹو گرافر تعینات ہوئی تو مجھے کیلاش کھیر اور ماڈل زلفی سید نے مبینہ طور پر جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا ۔“

انہوں نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ” مجھے میری ساتھی رپورٹر کے ساتھ کیلاش کھیر کا انٹرویو کرنے کیلئے ان کے گھر بھیج دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کی تصویریں بھی لینی ہیں جہاں انہیں گلوکار کیلاش کھیر نے انہیں نامناسب انداز میں چھوا تھا۔

اس سے قبل اداکارہ کنگنا رناوت نے فلم’’کوئین‘‘کے ہدایت کار وکاس بہل پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف کنگنا کو نہیں بلکہ دیگر خواتین کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا ہے۔

مزید پڑھیئے : زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے پر تنوشری دتہ کو قانونی نوٹس مل گیا

 

کنگنا رناوت نے کہا کہ ہم جب بھی کسی پارٹی میں ملتے تھے وکاس بہل مجھے نامناسب انداز سے چھوتا تھا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور صرف میرے ساتھ ہی نہیں دیگر لڑکیوں کے ساتھ بھی اس کا رویہ ایسا ہی تھا۔

مزید پڑھیئے : اداکارہ کاجول نے می ٹو مہم کی حمایت کردی

انہوں نے کہا کہ وکاس بہل کےاس برتاؤ کے خلاف ماضی میں ایک خاتون نے آواز بھی اٹھائی تھی تاہم اس کی آواز دبادی گئی لیکن مجھے اس لڑکی پر یقین ہے اور اس کی حمایت کرنے پر مجھے کئی اچھی فلموں سے ہاتھ بھی دھونے پڑے تھے۔

 

nana patekar

Kangna Ranawat

Me too

Tabool ads will show in this div