بے باک اورسلگتے موضوع،کاٹ دارجملوں والے سعادت حسن منٹو

اسٹاف رپورٹ


لاہور   :   سعادت حسن منٹو اٹھارہ جنوری انیس سو پچپن کو اس دنیا سے کوچ کرگئے لیکن ان کی تحریریں نہ صرف آج بھی زندہ ہیں، بلکہ سماج کے روبرو آئینہ لیے کھڑی ہیں۔ منٹو کی ساٹھ ویں برسی آج منائی جاری ہے۔

" ہوسکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مرے''  منٹو کے یہ الفاظ خوش فہمی پر منبی نہیں تھے، وقت نے ثابت کیا کہ منٹو آج بھی زندہ ہے، بیالیس برس کی زندگی میں ان کے ڈھائی سو سے زائد افسانے،ناول، ڈرامے، خاکے، بیسیوں کالم اور انشائیے اردو ادب کا عظیم سرمایہ ہیں۔

منٹو نے اردو افسانے کو نئی زندگی عطا کی، منٹو نے لکھا تھا کہ اس کے افسانے قابل برداشت نہیں تو یہ معاشرہ بھی قابل برداشت نہیں،11 مئی 1912 کو لدھیانہ میں آنکھ کھولنے والا سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955ء کو ہمیشہ کے لیے لاہور میں خاک اوڑھ کر سوگیا لیکن معاشرتی زندگی پر ایسے سوال چھوڑ گیا جس کے جواب آج تک تشنہ طلب ہیں۔ سماء

sister

Sheikh Rasheed Ahmed

Tabool ads will show in this div